دعائیہ سیٹ — Page 237
کہہ گیا تھا کہ کرو۔اسی طرح خدا تعالیٰ بھی اپنے بندے کی زبان پر خود دعا جاری کرتا ہے۔پس جب خود کرتا ہے تو پھر اسے رد نہیں کرتا۔یہ اس بندے کے قرب اور درجہ کے اظہار کے لئے ہوتا ہے اور اگر وہ کوئی اور دعا کرنے لگے تو خدا تعالیٰ اس کے دل اور دماغ پر ایسا تصرف کر لیتا ہے کہ اس کے منہ سے وہ کلمات ہی نہیں نکلتے جو وہ نکالنا چاہتا تھا بلکہ ایسے کلمات نکلتے ہیں جو قبول ہونے والے ہوتے ہیں۔تو ایسے انسانوں کے دعا کرنے کے دو طریق ہوتے ہیں۔ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام یا کشف یا وحی یا رویا کے ذریعہ سے انہیں بتادیا جاتا ہے کہ یہ دعا مانگو۔دوسرا یہ کہ اگر وہ کوئی ایسی دعا مانگنے کی نیت کرے جو قبول نہ ہونے والی ہو تو خدا تعالیٰ کی طرف سے ایسا تصرف ہوتا ہے کہ ان کی نیت بالکل بدل جاتی اور یہ خواہش ہی بالکل جاتی رہتی ہے کہ دعا کرے پھر جو الفاظ اور جو طریق اس دعا کے کرنے کے لئے اس کے مدنظر ہوتا ہے وہ بھول جاتا ہے اور زبان سے خدا کی طرف سے بنے بنائے الفاظ جاری ہو جاتے ہیں۔جس سے خود بھی حیران رہ جاتا ہے کہ میں کہنا کیا چاہتا تھا اور کہہ کیا رہا ہوں، اس قسم کی دعا میں وسعت بھی زیادہ ہوتی ہے اتنی کہ دو دو گھنٹے گزر جاتے ہیں مگر انسان سمجھتا ہے کہ کوئی پانچ چھ منٹ ہوئے ہوں گے وقت گزرتے ہوئے بھی پتہ نہیں لگتا۔کیونکہ وہ ایسا محو ہوتا ہے کہ اس دنیا سے اس کا دل و دماغ بالکل کھنچ جاتا ہےاور صرف خدا ہی خدا اسے نظر آ تا ہے۔237