دعائیہ سیٹ — Page 234
جاتا ہے کہ انشاء اللہ دعا کی جائے گی۔مگر کچھ عرصہ کے بعد وہ لکھتے ہیں کہ ابھی تک وہ کام نہیں ہوا، معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے دعا نہیں کی، اب آپ ضرور دعا کریں۔ہم لکھتے ہیں ہمارا کام دعا کرنا ہے وہ کرتے ہیں۔آگے کام کرنا خدا کے اختیار میں ہے اس میں ہمارا کوئی دخل نہیں۔اس کے جواب میں لکھتے کہ آپ نے یہ کیا لکھ دیا۔آپ تو جو چاہیں خدا سے منوا سکتے ہیں۔پس ہمارا یہ کام بھی کرواد بیجئے تو اس قسم کے خیالات ہیں آج کل کے مسلمانوں کے جو اس جہالت کا نتیجہ ہیں جو ان میں پھیلی ہوئی ہے۔قبولیت دعا کا سنہری گر پس میں پہلے اس بات کو صاف کرنا چاہتا ہوں کہ میں قطعا کوئی ایسا گر نہیں جانتا کہ جس سے آقا خادم اور خادم آقا بن جائے۔خالق مخلوق ہو جائے اور مخلوق خالق۔مالک غلام قرار پا جائے اور غلام مالک۔کیونکہ آقا آقاہی ہے اور غلام غلام۔خدا تعالیٰ ازل سے آقا ہے، خالق ہے ، مالک ہے، رازق ہے اور ہمیشہ اسی طرح رہا ہے اسی طرح رہے گا۔انسان ہمیشہ سے خادم۔مخلوق اور مملوک رہا ہے اور اس کی یہی حالت ہمیشہ رہے گی حتی کہ جنت میں جب اعلیٰ سے اعلیٰ مدارج پر ہوگا تو بھی یہی حالت ہوگی تو اس قسم کا خیال کفر ہے اور میں ہرگز ہرگز اس کا قائل نہیں۔ہاں ایسے رنگ اور طریق ضرور ہیں کہ جن سے انسان اللہ تعالیٰ کو خوش کر کے جہاں تک آقا اور مالک خالق اور مخلوق کا تعلق ہے اپنی بات منوا سکتا ہے۔خادم، خالق اور مخلوق مالک اور مملوک کا تعلق ہے اپنی بات منوا سکتا ہے۔234