دعائیہ سیٹ — Page 235
خاص اور اعلیٰ طریق پہلا طریق جس سے دعائیں قبول ہوتیں اور کثرت سے خدا تعالیٰ سنتا ہے وہ تو اس قسم کا ہے کہ ہر ایک انسان اسے اختیار نہیں کر سکتا بلکہ خاص خاص انسان ہی اس پر چل سکتے ہے کیونکہ وہ انسان کے کسب کے متعلق نہیں بلکہ اس کے رتبہ اور مرتبہ سے تعلق رکھتا ہے۔اس مرتبہ کا جو انسان ہوتا ہے اس کی نسبت تو میں یہ بھی کہ سکتا ہوں کہ اس کی ہر ایک دعا قبول ہو جاتی ہے، ابھی میں نے اس بات سے انکار کیا تھا کہ انسان کی ہر ایک دعا قبول نہیں ہوتی مگر اب میں نے کہا ہے کہ اس مرتبہ کے انسان کی ہر ایک دعا قبول ہو جاتی ہے ان دونوں باتوں میں اختلاف پایا جاتا ہے لیکن جب میں یہ بتاؤں گا کہ وہ مرتبہ کیا ہے تو آپ لوگ خود بخود سمجھ جائیں گے کہ کوئی اختلاف نہیں ہے۔الہی ہتھیار میں نے اس مرتبہ اور مقام کا نام آلہ یعنی ہتھیار رکھا ہوا ہے جس کے ہاتھ میں ہتھیار ہو وہ اسے جہاں چلائے چلتا ہے اور اگر وہ ہتھیا رضرب نہ لگائے تو اس کا قصور نہیں ہوتا بلکہ چلانے والے کا ہوتا ہے۔لیکن کوئی چلانے والا یہ بھی نہیں چاہتا کہ وہ کوئی ہتھیار چلائے اور وہ نہ چلے۔بلکہ وہ یہی چاہتا ہے کہ میں جہاں بھی چلاؤں وہیں چلے۔اسی طرح انسان پر ایک ایسا وقت آتا ہے جبکہ وہ خدا کے ہاتھ میں بطور ہتھیار کے ہو جاتا ہے وہ نہیں کھا تاجب تک کہ خدا اسے نہیں کھلاتا۔وہ نہیں پیتا جب تک کہ خدا اسے 235