دُعائے مستجاب

by Other Authors

Page 77 of 173

دُعائے مستجاب — Page 77

دعائے مستجاب۔دعا کی درخواست بطور رسم دُعا کے متعلق ایک غلط طریق اور رسم کی نشاندہی کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں: ”ہماری جماعت میں یہ ایک عادت ہوگئی ہے کہ جب وہ ایک دوسرے کو ملیں گے تو کہیں گے کہ دُعا کرنا یہ کہہ کر آگے چل پڑیں گے۔نہ کہنے والے کے دل میں یہ یقین ہوتا ہے کہ یہ میرے لئے ضرور دُعا کرے گا اور نہ سننے والے کے نزدیک یہ بات کوئی توجہ کے قابل ہوتی ہے بلکہ وہ ایک دوسرے کو بطور رسم اور بطور رواج کے کہہ کر آگے چل پڑتے ہیں۔جیسے انسان کسی دوسرے انسان سے ملتا ہے تو اس سے رواج کے طور پر خیریت وغیرہ پوچھتا ہے۔اسی طرح یہ لوگ رسم کے طور پر ایک دوسرے کو دُعا کیلئے کہہ دیتے ہیں۔اس بات کو اگر بطور رسم کے جاری رکھا جائے تو اس طرح آہستہ آہستہ دُعا کی عظمت جاتی رہتی ہے۔ہمیشہ ایسے آدمی کو دُعا کیلئے کہنا چاہئے جس کے متعلق یقین ہو کہ وہ ضرور دُعا کرے گا اور جس کے متعلق یقین نہ ہوا سے مت کہو۔تا کہ دُعا کی عظمت لوگوں کے دلوں میں کم نہ ہو جائے اور جن لوگوں کودُعا کیلئے کہا جائے ان کا فرض ہے کہ جس شخص نے ان کو دُعا کیلئے کہا ہو اس کیلئے ضرور دُعا کریں خواہ کسی رنگ میں اس کا نام لے کر یا مجموعی طور پر جس طرح ممکن ہو کیونکہ ہر چیز انسان کو یاد نہیں رہ سکتی اور خصوصاً ایسے 77