دُعائے مستجاب — Page 46
دعائے مستجاب۔وہ خندق کھودرہے تھے تو ایک پتھر ایسا آیا جوٹوٹنے میں نہ آتا تھا۔رسول کریم ملا یہ تم کو اطلاع دی گئی آپ وہاں تشریف لائے اور جب زور سے کدال مارا تو پتھر میں آگے نکلی اور آپ نے زور سے نعرہ تکبیر بلند کیا۔صحابہ نے بھی نعرہ لگایا۔پھر کدال مارا تو پھر آگ نکلی اور آپ نے پھر نعرہ تکبیر بلند کیا۔اور صحابہ نے بھی آپ کی تقلید کی۔تیسری دفعہ مارا تو پھر آگ نکلی اور آپ نے پھر زور سے اللہ اکبر کہا اور صحابہ نے بھی ایسا ہی کیا۔جب وہ پتھر ٹوٹ گیا تو آپ نے صحابہ سے دریافت کیا کہ تم نے نعرے کیوں لگائے ہیں۔صحابہ نے عرض کیا کہ آپ نے لگائے تھے اسلئے ہم نے بھی لگائے۔آپ نے فرمایا۔ہاں میں نے تین بار نعرہ تکبیر بلند کیا جس کی وجہ یہ تھی کہ جب پہلی دفعہ پتھر میں سے آگ نکلی تو میں نے اس شعلہ میں یہ نظارہ دیکھا کہ مسلمانوں کے ہاتھوں قیصر کے قلعے تباہ ہو گئے ہیں۔دوسرے شعلہ میں مجھے کسریٰ کے قلعوں کی تباہی کا نظارہ دکھائی دیا اور تیسرے میں حمیر کے قلعے بھی سرنگوں نظر آئے۔اس وقت بھی منافقوں نے ہنسی اڑائی اور کہا کہ جان بچانے کیلئے خندق کھود رہے ہیں اور مدینہ سے باہر نہیں نکل سکتے مگر خواب دیکھ رہے ہیں۔قیصر و کسریٰ کے محلات کے گویا وہ زمانہ مسلمانوں کے لئے اس قدر مشکلات کا زمانہ تھا کہ منافق جو بزدل ہوتے ہیں وہ بھی دلیری سے ان پر ہنسی کرنے لگ گئے تھے۔قرآن نے بھی غزوہ احزاب یا خندق کا نظارہ بیان کرکے بتایا ہے کہ اس وقت 46