دُعائے مستجاب

by Other Authors

Page 47 of 173

دُعائے مستجاب — Page 47

دعائے مستجاب۔مسلمانوں کی یہ حالت تھی کہ گویا وہ زلزلہ میں مبتلا ہیں اور زمین اپنی فراخی ย کے باوجود ان پر تنگ ہو گئی تھی۔بظاہر اس زبردست لشکر کے مقابل پر صحابہ کا زور نہیں چلتا تھا مگر پندرہ روز کے بعد آدھی رات کے وقت رسول اللہ صلی سلیم نے آواز دی اور فرمایا کوئی ہے؟ مگر کسی نے جواب نہ دیا۔ایک صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی ای ایام میں حاضر ہوں۔مگر آپ نے پھر فرمایا۔کوئی جاگتا ہے؟ مگر کوئی نہ بولا اسی صحابی نے پھر کہا۔یا رسول اللہ میں حاضر ہوں۔مگر آپ نے پھر فرمایا تم نہیں کوئی اور۔اور پھر تیسری دفعہ آواز دی مگر پھر بھی کوئی نہ بولا اور پھر اسی نے آواز دی اور آپ نے فرمایا کہ جاؤ اور مجھے اللہ تعالیٰ نے اطلاع دی ہے کہ کفار کا لشکر تتر بتر ہو گیا ہے۔وہ صحابی باہر نکلے تو دیکھا کہ سب میدان خالی پڑا ہے۔نہ غنیم کا کوئی خیمہ تھانہ سامان۔ایک اور صحابی ” بیان کرتے ہیں کہ میں اس وقت جاگتا تھا مگر سردی شدید تھی اور کپڑے نا کافی تھے اور سردی کی وجہ سے باوجود جاگنے کے منہ سے بات نہ نکلتی تھی۔کفار کے بھاگنے کا واقعہ یہ ہے کہ ایک عرب سردار کی آگ بجھ گئی۔اہل عرب اس بات کو منحوس خیال کرتے تھے۔اس نحوست کے دور کرنے کیلئے اس قبیلہ نے اپنے رواج کے مطابق یہ طریق تجویز کیا کہ رات کے وقت اپنے خیمے وہاں سے اُٹھا کر چند میل کے فاصلہ پر پرے جا کر لگائیں اور اگلے روز پھر وہیں آلگا ئیں۔اور جب رات کو چپکے سے انہوں نے خیمے اکھاڑنے شروع کئے تو ساتھ والوں نے خیال کیا کہ 47