دُعائے مستجاب — Page 155
دعائے مستجاب۔کام کرتا ہے ہم یہی سمجھتے ہیں کہ وہ قید ہوں گے۔۔۔پھر خطرات جنگ کے لحاظ سے ہم یقینی طور پر یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ ان کی جانیں بھی محفوظ ہیں یا نہیں۔پس ان تمام مبلغین کو اپنی دُعاؤں میں یا درکھو۔اسی طرح ہمیں اپنی دعاؤں میں ان لوگوں کو بھی یا درکھنا چاہئے جنہوں نے ہمارے مبلغین کی آواز پر احمدیت کو قبول کیا اور اپنے آپ کو اس جماعت میں شامل کر دیا۔“ ( رپورٹ مجلس مشاورت ) حضرت مصلح موعود اپنے پہلے نہایت کامیاب و مفید سفر یورپ سے بخیریت واپسی پر اپنے ایک خطاب کے آخر میں دعا کرتے ہوئے فرماتے ہیں: وو پس میں دُعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ہمیں اپنی عظمت اور اپنے جلال اور اپنی بے انتہا قدرتوں کا مظہر بنادے اور اس کی شان اور عظمت تمام دنیا اور اُس کے ہر گوشہ میں ظاہر ہو اور خدا تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اس کیلئے اور اس کے دین کی خاطر اپنا سب کچھ اس کی راہ میں قربان کر دیں اور ہماری نسلوں کو بھی توفیق عطا فرمائے اور کوئی وسوسہ ہمیں اس سے جدا نہ کر سکے۔وہ ہمارا ہواور ہم اس کے ہوجائیں۔اللھم آمین۔(الفضل ۳ جنوری ۱۹۲۵ء) ہر ایک کے لئے دُعا کرو تا خدا تعالیٰ کا فضل دنیا کی ہر قوم پر نازل ہو کیونکہ ایمان کسی ایک قوم کا حصہ نہیں۔“ 155 ( الفضل ۸ جون ۱۹۴۰ء)