دُعائے مستجاب — Page 96
دعائے مستجاب۔پس جب تک انسان کو یہ اعتماد نہ ہو کہ خدا تعالیٰ نے اس کی دعا سن لینی ہے اس وقت تک اس کی دُعا نہیں سنی جاتی اور جسے یہ اعتماد ہو کہ اس کی دعا ضرورسُنی جاتی ہے خواہ جس شخص کیلئے اس نے دُعا کی ہو اس کی لاش خود دفن کر کے آیا ہو۔دیکھو رسول کریم صل للہ ایسی تم نے ہر ایک مومن کو نماز میں یہ سکھایا ہے کہ یام الله لمن حمدہ یعنی جس نے اللہ تعالی کی حمد کی اس کی دعا خدا تعالیٰ نے سن لی۔اب جس شخص کو اس پر ایمان ہوا سے خواہ ظاہری آنکھوں سے اپنی دُعا قبول ہوتی نظر نہ آئے تو بھی وہ یہی کہے گا کہ میری آنکھیں غلطی کر سکتی ہیں یہ نہیں ہوسکتا ہے خدا تعالیٰ نے دُعانہ سنی ہو۔اس نے دعا ضرور سن لی ہے۔حضرت مسیح ناصری کے متعلق ایک واقعہ لکھا ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو چوری کرتے دیکھا۔جب اس سے پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ خدا کی قسم میں نے چوری نہیں کی۔اس پر انہوں نے کہا میری آنکھیں جھوٹی ہیں مگر تو سچا ہے۔پس خدا تعالیٰ کے بندے تو بندوں کے متعلق بھی نہیں کہتے کہ تم جھوٹے ہو پھر وہ خدا کیلئے کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ نعوذ باللہ اس نے جھوٹ کہا۔پس ہر حالت میں یہ سمجھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ نے دُعا سن لی ہے۔۔۔۔ایک اور آیت میں : وَاخِرُ دَعْوهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (یونس:۱۱) یعنی خدا تعالیٰ سے تعلق رکھنے والا ابتدا میں خدا تعالیٰ کی حمد کرتا ہے کیونکہ 96