دُعائے مستجاب — Page 74
دعائے مستجاب۔خدا کی ذات ہے۔اس وقت تک قبول نہیں ہوتیں۔بیشک دنیا میں ایسے لوگ موجود ہیں جو گو خدا کے دیئے ہوئے میں سے دیتے ہیں مگر بہر حال وہ انسان کو کپڑا ہی دے سکتے ہیں۔بیشک دنیا میں ایسے لوگ موجود ہیں جو گو خدا کے دیئے ہوئے علم سے دوسروں کو فائدہ پہنچاتے ہیں مگر بہر حال وہ بیماروں کا علاج ہی کر سکتے ہیں۔بیشک دنیا میں ایسے لوگ موجود ہیں جو گوخدا کے دیئے ہوئے علم سے دوسروں کی حفاظت کیلئے مقدمہ مفت لڑ سکتے ہیں مگر بہر حال وہ مقدمہ ہی بغیر فیس کے لینے کے لڑ سکتے ہیں۔مگر کوئی انسان دنیا کا ایسا نظر نہیں آسکتا جس کے ہاتھ میں یہ ساری چیزیں ہوں۔کوئی انسان ایسا نہیں جس کے ہاتھ میں جذبات کی تبدیلی ہو۔یہ صرف خدا ہی کی ذات ہے جس کے قبضہ و تصرف میں تمام چیزیں ہیں اور جو دلوں اور اس کے نہاں در نہاں جذبات کو بھی بدلنے کی طاقت رکھتا ہے۔پس جب تک مضطر ہو کر دُعا نہ کی جائے اس وقت تک دُعا قبول نہیں ہوتی لیکن جب اس رنگ میں دُعا کی جائے تو وہ خدا کے عرش پرضرور پہنچتی ہے اور قبول ہو کر رہتی ہے۔پس دعائیں کرو اور اس شرط کو جو دعاؤں کی قبولیت کیلئے خدا تعالیٰ نے قرار دی ہے مد نظر رکھو۔وقت نازک ہے اور ایک ایک دن قیمتی ہے۔۔( الفضل ۱/۱۸ پریل ۱۹۴۲ء) جان لیوا مصائب و مشکلات اور مخالفت کے ہجوم میں جب انسان انتہائی بے بسی کے عالم میں کہہ اُٹھے کہ اے خدا ہماری مصیبتیں انتہا کو پہنچ گئیں تیری نصرت کہاں ہے؟ 74