دُعائے مستجاب

by Other Authors

Page 75 of 173

دُعائے مستجاب — Page 75

دعائے مستجاب۔تو وہی وقت خدا کی تائید و نصرت کا ہوتا ہے۔حضور فرماتے ہیں: ”اے مومنو! اے مامور کی جماعت! کبھی یہ مت خیال کرو کہ بغیر مصیبتیں اُٹھائے تم کامیاب ہو جاؤ گے اور اس میں داخل ہو جاؤ گے حالانکہ ابھی تمہاری وہ حالت نہیں ہوئی جو پہلے انبیاء کی جماعتوں کی ہوئی۔کیا تمہاری مصیبتیں اس حد تک پہنچ چکی ہیں جو پہلے انبیاء کی جماعتوں کو پہنچیں۔ان کو مالی بھی اور جسمانی بھی مصیبتیں پہنچیں اور چاروں طرف سے انہیں خوب جھنجھوڑا گیا۔جس طرح جامن کو برتن میں ڈال کر ہلایا جاتا ہے۔یہاں تک کہ رسول اور اس کے ساتھ والے پکار اٹھے کہ مَتى نَصْرُ الله اے خدا ہماری مصیبتیں انتہا کو پہنچ گئیں۔تیری نصرت کہاں ہے؟ جب یہ وقت آجائے ساری مصیبتیں آجائیں۔پاؤں لڑکھڑانے لگیں۔دشمن اپنے سارے حربے استعمال کر چکیں۔جسم آگے چلنے سے انکار کر دیں۔دشمن کے گتے یعنی تمام اخلاق کو بالائے طاق رکھ کر ظلم کرنے والے لوگ اپنے قریب پہنچتے نظر آئیں جسم بالکل جواب دے بیٹھے تو بے اختیار دل سے نکلتا ہے۔اے خدا تو کہاں ہے ؟ اس وقت خدا تعالیٰ کہتا ہے۔أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللهِ گھبراؤ نہیں میں تمہارے قریب ہی ہوں۔تب سنت اللہ یہ ہے کہ قَرِيب جنگل بیابان میں جہاں پانی کا نشان نظر نہیں آتا جنت بنا کر مومنوں کے پاس رکھ دی جاتی ہے۔جگہ کے لحاظ سے نہیں بلکہ حقیقت کے لحاظ سے۔“ (الفضل ۲۰ جنوری ۱۹۳۵ء) 75