دُعائے مستجاب — Page 52
دعائے مستجاب۔ہے۔یہی وجہ ہے کہ بعض صوفیاء نے کہا ہے کہ: اسلام دعا کا نام ہے اور دعا اسلام ہے اسکی وجہ یہی ہے کہ اسلام دنیا میں مساوات قائم کرنے کیلئے آیا ہے۔مگر وہ کون ساعمل ہے جو سب کو مساوات بخشتا ہے۔نماز سب میں مساوات کو قائم نہیں کرتی کیونکہ عورتوں پر کچھ دن ایسے آتے ہیں جب وہ نماز کی ادائیگی سے معذور ہو جاتی ہیں۔پھر جب انسان بوڑھا ہو جائے تو کھڑا ہوکر نماز نہیں پڑھ سکتا اور زیادہ کمزور ہو جائے تو مسجد میں نماز کیلئے نہیں آسکتا۔اس طرح حج ہے، زکوۃ ہے، صدقہ ہے اور بہت سے اعمال ہیں جو خدا تعالیٰ نے انسان کی بہتری کیلئے دیئے اور ہمیں ان سے مالا مال کیا۔مگر کوئی عمل ایسا نہیں جو سب کو ایک مقام پر لے آئے اور حقیقی مساوات قائم کر کے دکھاوے۔سوائے نیک ارادہ یا دُعا کے یا مذہبی نقطہ نگاہ سے یہ کہو کہ سوائے ایمان اور دعا کے کیونکہ اسی چیز کا نام مذہبی اصطلاح میں ایمان بن جاتا ہے جسے دنیوی اصطلاح میں نیک ارادہ کہتے ہیں۔قوت ارادی جب خدا تعالیٰ کے تابع ہو جائے تو وہ ایمان بن جاتی ہے لیکن جب آزاد ہو تو صرف ارادی قوت کہلاتی ہے۔جیسے خواہش جب انسان کے تابع ہو تو محض خواہش کہلاتی ہے لیکن جب خدا تعالیٰ کے تابع ہو تو دُعا کہلاتی ہے۔یہ دو چیز میں مل کر دنیا میں عظیم الشان تغیر پیدا کرسکتی ہیں۔یہ زمین و آسمان کو ہلا سکتی ہیں۔دنیا دار لوگوں نے اس قوت سے کام لیا اور اس کا نام انہوں نے مسمریزم اور 52