دُعائے مستجاب — Page 48
دعائے مستجاب۔شکست ہوگئی ہے اور یہ لوگ بھاگ رہے ہیں انہوں نے بھی فوراً اپنے خیمے اُٹھانے شروع کر دیئے۔ان کو دیکھ کر اُن کے پاس والوں نے بھی ایسا ہی کیا۔حتی کہ جب ابوسفیان کو جو اس لشکر کا سپہ سالار تھا خبر ہوئی تو اس نے خیال کیا کہ مسلمانوں نے شب خون مارا ہے۔اس لئے یہاں سے جلدی بھاگنا چاہئے۔چنانچہ وہ اس قدر گھبرا یا کہ اونٹ کو کھولے بغیر ی اس پر سوار ہو کر اسے مارنے لگ گیا۔مگر وہ چلتا کس طرح۔آخر اس کے کسی ساتھی نے اس پر اس کی غلطی کو واضح کیا۔یہ الہی نصرت تھی جس نے اس وقت جب انسانی تدابیر بے کار ہو چکی تھیں آسمان سے نازل ہوکر رسول کریم صل السلام اور آپ کے صحابہ کو نجات دی۔“ (الفضل ۲۸ مارچ ۱۹۳۶ء) حضرت مصلح موعودؓ ہر اس شخص کو جو د نیوی لحاظ سے بے بسی اور کسمپرسی کے تاریک غار میں پھنسا ہو اور جس کے لئے ظاہری لحاظ سے مایوسی کی تاریکیوں سے نجات کی کوئی سبیل نہ ہو خوشخبری دیتے ہوئے فرماتے ہیں: قرآن مجید میں آتا ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں ہم ایمان لائے حالانکہ وہ مومن نہیں ہوتے لیکن چونکہ وہ ظاہری طور پر ایمان کا دعوی کرتے ہیں قرآن مجید پر ایمان رکھنے کا ادعا کرتے ہیں اس لئے ظاہری شکل کیوجہ سے ہم اسے ایمان کہہ دیتے ہیں۔حقیقت کی رُو سے نہیں۔جیسے مٹی کے بنے ہوئے آم یا مٹی کے بنے ہوئے سنگترے کو بھی ہم آم اور سنگترہ ہی کہتے 48