دُعائے مستجاب — Page 34
دعائے مستجاب۔رات دن گریہ وزاری میں گزاریں آج دو زمانہ نہیں کہ منسوز یادہ اور روڈ کم۔انسان کو چاہئے کہ آج رُوئے زیادہ اور جنسے کم بلکہ چاہیئے کہ انسان روئے ہی روئے اور ہنسی اس کے لبوں پر بہت کم ہی آئے تا آسمان سے وہ سامان پیدا ہوں جو ہماری بھی اور دوسرے لوگوں کی بھی کہ وہ بھی ہمارے بھائی ہیں، ان تباہ گن سامانوں سے حفاظت کر سکیں۔ذرا غور کرو کہ ایک منٹ میں آکر گولہ لگتا ہے یا مائن پھٹتی ہے اور چشم زدن میں ہزار دو ہزار انسان سمندر کی تہہ میں پہنچ کر مچھلیوں کی خوراک بن رہے ہوتے ہیں۔اگر انسان کو ایک لاش بھی کہیں باہر پڑی ہوئی مل جائے تو دل دہل جاتا ہے مگر یہاں تو ہزاروں لاشیں سمندر میں غرق ہو رہی ہیں۔انگریزی بحری جہازوں کے ڈوبنے کی اوسط ہفتہ وار ساٹھ ہزارٹن ہے اور بعض دفعہ تو دولاکھ بیس ہزارٹن تک جہاز بھی ڈوبے ہیں۔۔۔ساٹھ ہزارٹن جہازوں کے غرق ہونے کے معنی یہ ہوئے کہ چھ ہزار جانیں ہر ہفتہ سمندر کی تہہ میں پہنچ جاتی ہیں اتنے برطانوی لوگ گویا ہر ہفتہ ڈوبتے ہیں۔۔۔۔مگر وہ اُمید نہیں چھوڑتے۔پھر کتنے افسوس کا مقام ہو گا اگر ہم جو زندہ قوم ہیں اُمید چھوڑ دیں۔پس بہت گریہ وزاری کرو۔یہ مت سمجھو کہ ہم آرام سے ہیں۔ایک زمیندار جو اپنی زمین میں ہل چلاتا ہے یہ مت سمجھے کہ مجھ تک کون پہنچ سکتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ یہ ہل ہی میری دنیا ہے۔باقی دنیا سے مجھے کیا سروکار۔بموں نے اب دُورو نزدیک کا سوال ہی نہیں رہنے دیا۔کیا پتہ کہ کل اس کا ہل سلامت رہ سکے یا 34