دُعائے مستجاب

by Other Authors

Page 24 of 173

دُعائے مستجاب — Page 24

دعائے مستجاب۔سمجھتی ہے کہ اس کی دُعا قبول نہیں ہوئی مگر واقعہ یہ ہوتا ہے کہ اس کی دُعا قبول ہو چکی ہوتی ہے۔پس تم اس بات سے مت ڈرو کہ تمہارا مستقبل کیا ہے مستقبل کا کام خدا سے تعلق رکھتا ہے۔تمہارا کام ظاہر پر فیصلہ کرنا ہے۔۔۔پس دعائیں کرو اور اس شان سے کرو جس شان کا یہ فتنہ ہے (جنگ عظیم ثانی۔ناقل ) یہ نہیں کہ کسی وقت خیال آیا تو دُعا کر لی بلکہ اتنی توجہ اور اتنے درد سے دُعائیں کرو کہ تمہاری نیندیں تم پر حرام ہو جائیں۔تم بیٹھو تو اس وقت بھی۔تم لیٹو تو اس وقت بھی۔اٹھو تو اس وقت بھی۔غرض ہر حرکت اور ہر سکون کے وقت دُعائیں تمہاری زبان پر جاری رہیں۔میرا تجربہ ہے کہ جب کسی دُعا کی طرف میری اتنی توجہ ہو کہ جب میں سوکر اُٹھوں تو اُس وقت بھی وہ دُعا میری زبان پر جاری ہو تو مجھے یقین ہو جاتا ہے کہ اب وہ دُعا قبول ہوکر رہے گی کیونکہ خدائی تصرف کے ماتحت وہ میری زبان پر جاری ہوتی ہے۔جب میں سوجا تا ہوں تو وہ دُعا برابر میرے قلب سے نکلتی رہتی ہے اور جب میں اُٹھتا ہوں تو وہ میری زبان پر جاری ہوتی ہے۔اس وقت میں سمجھ لیتا ہوں کہ یہ خدا تعالیٰ کی اٹل تقدیر ہے۔پس ایسی ہی دعائیں کرو۔سوتے ، جاگتے ، چلتے پھرتے ، اٹھتے بیٹھتے، غرض ہر حالت میں گڑ گڑا گڑ گڑا کر دعائیں کرو۔تا اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان فتنوں کو جلد سے جلد دُور کر دے۔“ (الفضل ۱۵ نومبر ۱۹۴۱ء) 24