دُعائے مستجاب — Page 23
دعائے مستجاب۔غلطی بھی کر بیٹھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اس طرح قبول نہیں کرتا جس طرح وہ دُعا مانگ رہا ہوتا ہے بلکہ اس رنگ میں قبول کرتا ہے جس رنگ میں اس دُعا کا قبول ہونا اس کے لئے بہتر ہوتا ہے۔اس طرح گو بعض دفعہ اسے یہ خیال گزرتا ہے کہ میری دُعا قبول نہیں ہوئی مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کی دُعا قبول ہو چکی ہوتی ہے کیونکہ اس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ اس کے لئے وہ امر ظاہر کرتا ہے جو اس کے لئے مفید ہوتا ہے گو بظاہر وہ اس کی مراد کے خلاف ہی کیوں نظر نہ آئے۔مثلاً ایک شخص کا بیٹا سخت بیمار ہے اور وہ دُعا کرتا ہے کہ یا اللہ میرے بیٹے کو صحت دے دے۔اب بظاہر دعا اسی رنگ میں پوری ہونی چاہئے کہ اس کا بیٹا تندرست ہو جائے مگر اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ بات ہوتی ہے کہ اگر اس کا بیٹا زندہ رہا تو وہ بڑا ہوکر چور یا ڈاکو یا فسادی بنے گا اور اس طرح اپنے باپ اور خاندان کی بدنامی کا موجب ہوگا۔اس وقت جب وہ یہ دُعا کر رہا ہوگا کہ یا اللہ میرے بیٹے کو صحت دے۔اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کو حکم دے گا کہ یہ میرا بندہ مجھے بڑا پیارا ہے ہم نے اس کی دعا قبول کرلی ہے جلدی جاؤ اور اس کے بیٹے کی روح قبض کرلوتا ایسا نہ ہو کہ بڑا ہو کر وہ خود بھی گنہ گار بنے اور اپنے خاندان کی بدنامی کا بھی موجب ہے۔پس وہ دُعا تو یہ کر رہا ہوتا ہے کہ میرا بیٹا بچ جائے مگر چونکہ خدا یہ جانتا ہے کہ اگر یہ زندہ رہا تو بدنامی کا موجب ہوگا، اس لئے وہ دُعا کو اس رنگ میں قبول کر لیتا ہے کہ اسے وفات دے دیتا ہے اور اس طرح اسے بدنامی سے بچا لیتا ہے۔دنیا 23