دُعائے مستجاب

by Other Authors

Page 20 of 173

دُعائے مستجاب — Page 20

دعائے مستجاب۔دُعا کی حقیقت دُعا کی حقیقت و فلسفہ سمجھاتے ہوئے حضور بعض بہت پیاری مثالوں کے ذریعہ بتاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مومن کی نیت اور اس کے ارادہ کو دیکھتا ہے۔یہ نہیں دیکھتا کہ اس کی ظاہری حالت کیا ہے اور اس کے منہ سے الفاظ کیا نکل رہے ہیں فرمایا : وو۔۔مثنوی میں مولانا روم نے لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک دفعہ جنگل میں سے گزر رہے تھے کہ انہوں نے دیکھا کہ ایک گڈریا بیٹھا ہے اور وہ اپنی گدڑی میں سے جوئیں نکالتا جاتا تھا اور کہتا جاتا تھا کہ یا اللہ اگر تو مجھے مل جائے تو میں اپنی بکریوں کا تازہ تازہ دودھ تجھے پلاؤں۔اے اللہ اگر تو مجھے مل جائے تو میں تیرے پیر دباؤں۔تجھے کانٹے چبھ جائیں تو میں تیرے کانٹے نکالوں۔تجھے جوئیں پڑ جائیں تو تیرے کپڑوں میں سے جوئیں نکالوں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب یہ سنا تو اُسے سوٹا مارا اور کہا احمق خدا کی ہتک کرتا ہے۔کیا اللہ بھی بھوکا اور پیاسا ہوسکتا ہے۔وہ تو رازق ہے سارے جہان کو روزی دیتا ہے لیکن اگر اسے بھوک بھی لگے تو کیا وہ تیری بکریوں کا دودھ ہی بیٹے گا اور وہ تو طاقتور خدا ہے مگر تیرے نزدیک وہ ننگے پاؤں پھر رہا ہے اور اُسے جوتی تک نصیب نہیں اور کانٹے اس کے پاؤں میں چبھ جاتے ہیں۔پھر تو یہ سمجھتا ہے کہ تیری طرح اس نے سڑی ہوئی 20