دُعائے مستجاب

by Other Authors

Page 16 of 173

دُعائے مستجاب — Page 16

دعائے مستجاب۔روشنی پا کر عمدہ تدبیریں میسر آسکیں۔“ وو ایام اصلح۔روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۲۳۱ مطبوعہ لندن )۔۔۔بڑا سعید وہ ہے جو اول اپنے عیوب کو دیکھے ان کا پتہ اس وقت لگتا ہے جب ہمیشہ امتحان لیتا ر ہے۔یاد رکھو کہ کوئی پاک نہیں ہو سکتا جب تک خدا اُسے پاک نہ کرے۔جب تک اتنی دُعا نہ کرے کہ مرجاوے۔تب تک سچا تقولی حاصل نہیں ہوتا اس کے لئے دُعا سے فضل طلب کرنا چاہئے۔اب سوال ہو سکتا ہے کہ اسے کیسے طلب کرنا چاہئے تو اس کیلئے تدبیر سے کام لینا ضروری ہے جیسے ایک کھڑکی سے اگر بد بو آتی ہے تو اس کا علاج یہ ہے کہ یا اُس کھڑکی کو بند کر دے یا بد بو دار شے کو اُٹھا کر باہر پھینک دے۔پس کوئی اگر تقویٰ چاہتا ہے اور اس کیلئے تدبیر سے کام نہیں لیتا تو وہ بھی گستاخ ہے کہ خدا کے عطا کردہ قومی کو بے کار چھوڑتا ہے۔ہر ایک عطاء الہی کو اپنے محل پر صرف کرنا اس کا نام تدبیر ہے۔۔۔ہاں جو نری تدبیر پر بھروسہ کرتا ہے وہ بھی مشرک اور اسی بلا میں مبتلا ہو جاتا ہے جس میں یورپ ہے۔تدبیر اور دُعا دونوں کا پورا حق ادا کرنا چاہیئے۔تد بیر کر کے سوچنے اور غور کرے کہ میں کیا شے ہوں۔فضل ہمیشہ خدا کی طرف سے آتا ہے۔ہزار تد بیر کرو ہرگز کام نہ آوے گی جب تک آنسونہ ہیں۔سانپ کے زہر کی طرح انسان میں زہر ہے۔اس کا تریاق دُعا ہے جس کے ذریعہ سے آسمان سے چشمہ جاری ہوتا ہے۔جو دُعا سے غافل ہے وہ مارا گیا۔ایک دن اور رات جس کی دُعا سے 16