دُعائے مستجاب — Page 141
دعائے مستجاب۔مندرجہ ذیل ایمان افروز واقعہ مکرم محمد شفیع صاحب نے نئی دہلی سے تحریر کیا جو الفضل مورخہ ۲۹ جنوری ۱۹۴۲ء میں حضرت امیر المؤمنین خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی قبولیت دعا کا ایک نشان کے عنوان سے شائع ہوا: وو کچھ عرصہ ہوا میرے ایک رشتہ دار مولوی عبدالرحمن صاحب سکول ماسٹر کو ڈسٹرکٹ بورڈ کی طرف سے حکم ملا کہ آپ کو فلاں تاریخ سے ریٹائرڈ کیا جاتا ہے اور اسکے ساتھ ہی ایک مدرس چارج لینے کے واسطے بھیج دیا گیا۔اس پر مولوی صاحب کو بڑا فکر ہوا کہ اب گھر کا گزارا کیسے چلے گا کیونکہ میرا لڑکا بھی بے روزگار ہے۔اسی فکر میں وہ قادیان حضرت امیر المؤمنین خلیفہ امسیح الثانی کی خدمت میں دعا کیلئے گئے اور وہاں تین روز تک ٹھہرے مگر حضور سے ملاقات نہ ہوسکی۔اس سے وہ اور بھی گھبرائے مگر دفعتا انہیں خیال آیا کہ اللہ تعالیٰ تو جانتا ہی ہے کہ میں کس مقصد کے لئے اس کے مقرر کردہ خلیفہ کے دربار میں حاضر ہوا ہوں۔اس پر مولوی صاحب نے چھٹی لکھ کر بکس میں ڈال دی اور واپس گھر آگئے۔رات کو خواب میں دیکھا کہ حضور پرنور حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایک کرسی پر رونق افروز ہیں۔سامنے ایک میز پر کتاب ہے حضور اس کتاب کے ورق کبھی ایک طرف کو الٹتے ہیں کبھی دوسری طرف کو اور مولوی صاحب سے فرمایا۔آپ کیا چاہتے ہیں۔انہوں نے عرض کیا حضور میں نوکری سے علیحدہ کیا جارہا ہوں۔ان دنوں میرا لڑکا بھی بے روز گار ہے۔گھر کا گزارا کیسے چلے گا۔اس پر حضور 141