دُعائے مستجاب

by Other Authors

Page 133 of 173

دُعائے مستجاب — Page 133

دعائے مستجاب۔تھا۔وہ بیماری جس میں مریضہ کبھی درد سے بیتاب ہو کر اُٹھ اُٹھ کر چھت کو پکڑتی تھی اور روتی کراہتی تھی اور کبھی بے حس و حرکت ہو کر بیہوش ہو جاتی تھی اور وہ بیماری جس سے پہلے ہمیشہ ہم میاں بیوی ایک دوسرے سے گناہ بخشوا لیتے تھے اور آخری وصیتیں یا تحریریں میری اہلیہ مجھے دے دیتی تھیں اور وہ بیماری جس کا دورہ پہلے سے زیادہ ڈراؤنی شکل میں نمودار ہوتا تھا۔وقت گزر گیا۔دن گزر گئے اور خبر بھی نہیں گو یا بالکل تندرست تھی۔یہ واقعہ اپریل ۱۹۳۶ء کا ہے اس کے بعد وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے بالکل تندرست ہو گئی اور دسمبر ۱۹۳۶ء میں بچہ بھی پیدا ہوا۔بالآخر معروض ہوں کہ یہ وہی عورت ہے جو دنیا کے ڈاکٹروں کے نزدیک لا علاج اور ناقابل اولا د ثابت ہو چکی تھی مگر حضور کی دُعا سے زندہ ہوگئی اور 66 اب تک خوش و خرم زندگی بسر کر رہی ہے۔“ وو (الفضل ۱۰؍ دسمبر ۱۹۳۷ء) حضور کی قبولیت دعا کا تازہ نشان“ کے عنوان سے مکرم گیانی واحد حسین مربی سلسلہ مرحوم کا مندرجہ ذیل ایمان افروز بیان الفضل ۱۱ر دسمبر ۱۹۴۰ء میں شائع ہوا: چوہدری عنایت اللہ صاحب سکنہ چک نمبر ۵۶۵ کے ہاں آٹھ لڑکیاں پیدا ہوئیں۔۱۹۳۹ء کے سالانہ جلسہ پر بوقت ملاقات جماعت نے سیدنا حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے۔۔حضور عرض کیا کہ حضور دُعا فرمائیں۔خدا تعالیٰ چوہدری صاحب کے ہاں اولاد نرینہ عطا 133