دُعائے مستجاب — Page 124
دعائے مستجاب۔مسکراتے رہے اور پھر تھوڑی دیر کے بعد فرمانے لگے۔مجھے ابھی الہام ہوا ہے کہ تمہاری کھانسی جاتی رہی اس لئے میں نے کیلا کھا لیا ہے۔کیونکہ جب خدا نے کہا ہے کہ کھانسی جاتی رہی تو کیا کس طرح کھانسی پیدا کر سکتا ہے۔اب اس کے یہ معنی نہیں کہ جس شخص کو کھانسی کی شکایت ہو وہ بے شک کیلا کھا لیا کرے۔وہی شخص ایسا کرسکتا ہے جسے خدا تعالیٰ کی طرف سے صحت کی خبر دی گئی ہو۔اسی طرح جس شخص کو خدا کہہ دے کہ تمہیں رزق کیلئے کسی تدبیر کی ضرورت نہیں اس کے رزق کا ذمہ دار خود خدا ہو جاتا ہے لیکن باقی لوگوں کے متعلق حصول رزق کیلئے اللہ تعالیٰ نے یہی قانون مقرر کیا ہوا ہے کہ وہ کوشش کریں۔ہاں ہم ضرور مانتے ہیں کہ مومن کیلئے جہاں دنیوی رستے بند ہو جاتے ہیں وہاں اللہ تعالیٰ اس کی دُعا کی برکت سے ان بند راستوں کو بھی کھول دیتا ہے۔میں نے ایک دفعہ جس طرح خدا سے ناز کرتے ہیں اس سے ناز کرتے ہوئے ایک دعا کی۔وہ جوانی کے ایام تھے اور ہم ایک ایسی جگہ سے گزر رہے تھے جہاں اس دعا کے قبول ہونے کی بظاہر کوئی صورت نہ تھی مگر محبت الہی کے جوش میں اس سے ناز کرتے ہوئے میں نے کہا خدا یا تو مجھے ایک روپیہ دلا۔میں اس وقت جالندھر اور ہوشیار پور کی طرف گیا ہوا تھا اور کا ٹھگڑھ سے واپس آرہا تھا کہ اس سفر میں ایک ایسے علاقے سے گزرتے ہوئے جہاں کوئی احمدی نہ تھا میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا۔شاید اللہ 124