دُعائے مستجاب — Page 113
دعائے مستجاب۔بتایا ہوا راستہ ہے۔۔۔۔اور یہ وہ رستہ ہے جس پر چلنے والے کی مدد کرنے کا اس نے خود وعدہ کیا ہوا ہے۔۔۔پس ان پر خطر ایام میں ان دعاؤں پر خاص طور پر زور دینا چاہئے اور جماعتی طور پر زور دینا چاہئے۔جماعتی طور پر زور دینے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ جو لوگ کمزور ہوتے ہیں وہ بھی اس طرح دُعاؤں میں شریک ہو جاتے ہیں۔جب جماعتی رنگ میں دُعا نہیں ہوتی تو صرف چند لوگ دُعا کرتے ہیں اور باقی غفلت اور سستی کی وجہ سے یا اپنی بے عملی کی وجہ سے ان دعاؤں میں حصہ نہیں لے سکتے۔کئی لوگ دُعا کا ارادہ تو رکھتے ہیں مگر بھول جاتے ہیں اور کئی ایسے ہوتے ہیں جو بھولتے تو نہیں مگر ان کو دعائیں آتی ہی نہیں۔۔۔پھر کئی ایسے بھی ہوتے ہیں جو غفلت کی وجہ سے ان دعاؤں میں اتنے جوش کا اظہار نہیں کرتے جتنے جوش کا اظہار نہیں کرنا چاہیئے۔مگر جب اس قسم کے لوگ دوسروں کے ساتھ دعا میں شامل ہوتے ہیں تو انہیں بھی دعاؤں میں جوش پیدا ہو جاتا ہے اور اجتماعی دعاؤں میں ہمیں ہمیشہ یہ نظارہ نظر آتا ہے۔چنانچہ جلسہ سالانہ کے اختتام پر مجلس شوری کے آخر میں یا رمضان۔۔۔میں درس قرآن کریم کے خاتمہ پر جب اجتماعی رنگ میں دعا کی جاتی ہے تو کس طرح لوگ چیخ چیخ کر رونے لگ جاتے ہیں اور ان کی دعاؤں میں ایسی رقت اور ایسا سوز و گداز پیدا ہو جاتا ہے جو ان کی دعاؤں کو قبولیت کے قابل بنا دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ دوسروں کی پر خلوص دعاؤں کی وجہ سے ان کی 113