دُعائے مستجاب — Page 106
دعائے مستجاب۔رسول کریم صلی سلیم نے یتیم اور مظلوم کی دُعا کے متعلق فرمایا ہے کہ وہ عرش الہی کو ہلا دیتی ہے۔انہیں کوئی لمبی لمبی دعائیں کرنے کی ضرورت نہیں ان کی ایک آہ ہی عرش کو ہلانے کیلئے کافی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ درد کے جذبات سے پر ہوتی ہے اور وہ اس بادل کی طرح ہوتی ہے جو پانی سے پر ہوتے ہیں اور اپنے پانی سے زمین کا چپہ چپہ گیلا کر دیتے ہیں۔اور جو دُعا جذبات درد سے خالی ہے وہ سوکھے بادل کی طرح ہے کہ جس میں پانی کا ایک قطرہ نہیں ہوتا۔صرف اس کے ساتھ آندھی ہوتی ہے اور بسا اوقات وہ گھروں کی چھتوں کو اڑا کر لے جاتا ہے۔پس تمام احمدی دوستوں کو اپنے لئے اپنے ہمسایوں کیلئے اپنی جماعت کیلئے باقی مسلمانوں کیلئے موجودہ زمانہ کی مشکلات اور اس کے خطرات کو سوچ سمجھ کر دُعائیں کرنی چاہئیں۔تا انکی دعائیں جذبات کے ماتحت نہ ہوں اور باقی مسلمانوں کو بھی تحریک کرنی چاہئے کہ وہ دُعا کی طرف توجہ کریں۔۔۔انکے دلوں میں قرآن کریم اور آنحضرت سلیم کی محبت کو قائم کرنا چاہیئے اور انہیں اس تکلیف اور مصیبت کا احساس کرانا چاہئے جوان پر پڑنے والی ہے۔اگر انکو اس مصیبت کا احساس ہو جائے اور درد دل سے دُعاؤں میں لگ جائیں تو یہ ہو نہیں سکتا کہ ووہ خدا جس نے یونس علیہ السلام کی قوم کی دعاؤں کوشن کر ان سے عذاب کو ٹلا دیا تھا وہ محمد رسول اللہ صلی لی لی ہوتم کی اُمت کی دعاؤں کو نہ سُنے۔106