دُعائے مستجاب — Page 98
دعائے مستجاب۔بیٹے کی زندگی کیلئے دُعا کرتا ہے۔میں اس کی مثال لیتا ہوں۔بیٹے کی زندگی کی اس لئے خواہش کی جاتی ہے کہ انسان کا دنیا میں نام قائم رہے لیکن اگر وہ بیٹار ہتا تو ممکن تھا کہ کافر ہوکر مرتا۔اب جو اس کی زندگی کیلئے دعا کی جاتی تھی وہ خدا تعالیٰ نے اُسے ایمان پر وفات دیکر قبول کر لی۔ہاں ان مول استجب لکم میں خدا تعالیٰ نے یہ وعدہ نہیں کیا کہ جو کچھ مانگا جائے گا وہ نام کے طور پر دے دے گا بلکہ یہ فرمایا ہے کہ اصل چیز دے گا۔اس طرح ہر ایک دعا اصلیت کے لحاظ سے ضرور سنی جاتی ہے اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ تمام دُعائیں نہیں سنی جاتیں یہ بھی نہیں ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ دعائیں سب سنی جاتی ہیں۔جو شخص اس کا انکار کرتا ہے اس کی آنکھیں جھوٹی ہیں۔اس کے کان جھوٹے ہیں اور وہ خود جھوٹا ہے اور اگر کسی کو ایک سیکنڈ کے لئے بھی یہ شبہ ہوتا ہے کہ اس کی کوئی دعا سنی نہیں جائے گی تو اس کے سب کئے کرائے پر پانی پھر گیا۔ہمیشہ یہی یقین ہونا چاہئے کہ خدا تعالیٰ نے اس کی ہر ایک دعا سن لی اور ضرورسن لی۔جب انسان اس مقام پر پہنچ جاتا ہے تو پھر نام کے لحاظ سے بھی اس کی بہت سی دُعائیں سن لی جاتی ہیں۔“ (الفضل ۲۰ ستمبر ۱۹۶۱ء) 00 98