دُعائے مستجاب — Page 99
دعائے مستجاب۔اس امر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ پر یقین اور توکل اس کے فضلوں کو جذب کرنے کا ذریعہ ہے۔حضور ارشادفرماتے ہیں: حضرت ابن عباس سے کسی نے پوچھا سب سے زیادہ توجہ سے آپ کس کا کام کیا کرتے ہیں انہوں نے کہا میں اس شخص کا کام سب سے زیادہ توجہ سے کرتا ہوں جو مجھے کہدے کہ اسے ابن عباس تیرے سوا میرا یہ کام کوئی اور شخص نہیں کر سکتا۔اگر ابن عباس کے دل میں اتنی غیرت ہو سکتی ہے کہ جب کوئی شخص ان پر بھروسہ کرے تو وہ ان کا کام کر دیں۔تو کیا ہمارے مولیٰ میں اتنی غیرت بھی نہیں کہ ہم کہیں خدایا تیرے سوا ہمارا کوئی مددگار نہیں تو وہ ہماری التجا نہ سُنے۔ایسا کبھی نہیں ہوسکتا۔بلکہ جب ہم یقین سے کہیں کہ خدایا تو نے ہی یہ کام کرنا ہے تو وہ کام پورا بھی کر دیتا ہے مگر نقص یہی ہے کہ یقین کی کمی ہے۔منہ سے تو کہتے ہیں خدا یا یوں کر مگر دل خدا کی نصرت پر یقین نہیں رکھتا۔ایسی دُعا خدا کی درگاہ سے رد کر دی جاتی ہے اور دُعا کرنے والے کے منہ پر ماری جاتی ہے۔پس دعائیں کرو، عبادت کی عادت ڈالو اور ذکر الہی کرو اور ضروری بات یہ ہے کہ تہجد کی عادت ڈالو۔مجھے افسوس ہے ہماری جماعت میں بہت کم ایسے لوگ ہیں جو تہجد کیلئے اُٹھتے ہیں اگر زیادہ نہیں کر سکتے تو کم از کم اتنا تو کرو۔۔۔کہ یہ عہد کریں کہ جمعہ کی رات تہجد ضرور پڑھنی ہے۔ایک رات تہجد پڑھ لو اور چھ راتیں سولو۔اس طرح آہستہ آہستہ باقی دنوں میں بھی اُٹھنے کی 99