دُعائے مستجاب

by Other Authors

Page 90 of 173

دُعائے مستجاب — Page 90

ہیں: دعائے مستجاب۔کہ ہر حالت میں خدا تعالیٰ کو ہی اپنی پناہ سمجھنا چاہئے اور اسی سے مدد طلب کرنی چاہئے۔اسی طرح جن قوموں میں دُعا کا ادب و احترام اور اس کی عظمت اور قدر پائی جاتی ہے وہ سیدھے راستے پر چل رہی ہوتی ہیں اور یہ خدا تعالیٰ پر ان کے درست ایمان کی علامت ہوتی ہے لیکن جن میں یہ بات نہ ہو وہ روحانی لحاظ سے مُردہ ہوتی ہے۔مجھے غیر مبائعین پر افسوس آتا ہے جب میں دیکھتا ہوں کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دُعاؤں پر بھی یقین نہیں رکھتے۔حالانکہ ان میں بعض ایسے لوگ بھی ہیں جو مجھے دُعا کیلئے لکھا کرتے ہیں۔ایک دفعہ ان کی ایک مبائع سے مسئلہ نبوت پر گفتگو ہوئی تو انہیں کہا گیا کہ آپ دُعا کیلئے تو خلیفت المسیح کو لکھتے ہیں لیکن مسئلہ نبوت میں اختلاف رکھتے ہیں۔کہنے لگے اس عقیدہ میں تو مولوی محمد علی صاحب سچے ہیں۔لیکن دُعائیں میاں صاحب کی قبول ہوتی ہیں۔غرض جن قوموں میں سے دُعا کا ادب و احترام مٹ جاتا ہے وہ مردہ ہو جاتی ہیں۔پس جب دُعا سے رغبت کم ہو تو سمجھ لینا چاہئے کہ روحانیت کمزور ہورہی ہے اور اس کا علاج کرنا چاہئے۔“ 66 اسی مضمون کے تسلسل میں قبولیت دُعا کی شرائط بیان کرتے ہوئے حضور فرماتے دُعا کے متعلق یہ امر بھی یاد رکھنا چاہئے۔دُعا قبول ہونے رو 90