دُعائے مستجاب — Page 56
رات کے تیروں کی تاثیر ہیں: دعائے مستجاب۔ایک بزرگ کا واقعہ لکھا ہے کہ ان کے محلہ میں بادشاہی دربار کے بعض آدمی رات کو گانے بجانے کا شغل رکھتے۔انہوں نے کئی دفعہ سمجھایا کہ لوگوں کی نیندیں اور نمازیں خراب ہوتی ہیں تم اس شغل کو ترک کر دو مگر وہ نہ مانے۔جب انہوں نے بار بار کہا تو اس خیال کے ماتحت کہ کہیں یہ محلہ والوں سے مل کر ہمیں روکنے کا تہیہ نہ کرلیں۔انہوں نے شاہی پہرہ داروں کا انتظام کر لیا۔جب اس بزرگ کو اطلاع ملی تو انہوں نے کہا۔اچھا۔انہوں نے اپنی حفاظت کے لئے فوج بلالی ہے۔تو ہم بھی رات کے تیروں سے ان کا مقابلہ کریں گے معلوم ہوتا ہے ان لوگوں کے دلوں میں ابھی کچھ نیکی باقی تھی۔جونہی ان کے کان میں یہ آواز پڑی کہ ہم رات کے تیروں سے مقابلہ کریں گے وہ دوڑتے ہوئے اس بزرگ کے پاس آئے اور کہنے لگے ان تیروں کے مقابلہ کی ہم میں طاقت نہیں۔ہم اپنے شغل سے باز آئے۔خلوص دل سے کی گئی دُعا کی عظمت اور اثر انگیزی بیان کرتے ہوئے حضور فرماتے وو پس دُعا ایسا ہتھیار ہے کہ اگر کوئی کامل یقین اور پختہ ارادہ کے ساتھ اس سے کام لیتا ہے تو اس کے مقابلہ میں کوئی ٹھہر نہیں سکتا۔میں نے جماعت کو توجہ دلائی تھی کہ آپ لوگوں میں سے بعض امراء ہیں وہ مالی لحاظ 56