دُعائے مستجاب — Page 18
دعائے مستجاب۔راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر تہجد میں خدا کے حضور دُعائیں کرو۔وہی تمہیں پیدا کرنے والا ہے۔خلقكم وما تعملون۔پس اور کون ہے جوان بدیوں کو دُور کرے۔نیکیوں کی توفیق تم کو دے۔بعض لوگ کم ہمت ہوتے ہیں۔تم ایسے مت بنو کسی کی پرواہ نہ کرو۔خواہ جذبات نفسانی پہلے سے بھی زیادہ جوش ماریں۔پھر بھی مایوس نہ ہو۔یقیناً خدا رحیم کریم اور حلیم ہے وہ دُعا کرنے والے کو ضائع نہیں کرتا۔تم دُعا میں مصروف رہو اور اس بات سے مت گھبراؤ کہ جذبات نفسانی کے جوش سے گناہ صادر ہوتے ہیں وہ خدا سب کا حاکم ہے وہ چاہے تو فرشتوں کو بھی حکم کر سکتا ہے کہ تمہارے گناہ نہ لکھے جائیں۔دیکھو دُعا کے ساتھ عذاب جمع نہیں ہوتا مگر دُعا صرف زبان سے نہیں ہوتی بلکہ دُعاوہ ہے کہ جومنگےسومر رہے، مرےسومنگن جا ہر ایک جو دُعا کرتا ہے اُسے ضرور دیا جاتا ہے۔آپ کو تکلفانہیں چاہئے اور بدظن نہیں ہونا چاہیئے۔“ اخبار بدر ۱۰ جنوری ۱۹۰۷ء۔ملفوظات جلد ۵ صفحہ ۱۰۷ حاشیہ ) خدا تعالی کی ذات سے مایوس ہو کر دعا کا طریق ترک نہیں کرنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: وو۔۔۔جیسا اثر دعا میں ہے ویسا اور کسی شے میں نہیں مگر دعا کے واسطے پورا جوش معمولی باتوں میں پیدا نہیں ہوتا بلکہ معمولی باتوں میں تو بعض دفعہ دُعا 18