دُعائے مستجاب

by Other Authors

Page 162 of 173

دُعائے مستجاب — Page 162

دعائے مستجاب۔کرتے ہیں کہ تو ہماری کمزور حالت کو دیکھتے ہوئے اپنے فضلوں کو بڑھاتا جا۔اپنی رحمتوں کو بڑھا تا جا۔اپنی برکتوں کو بڑھا تا جا۔یہاں تک کہ ہماری ساری کمزوریوں کو تیرے فضل ڈھانپ لیں اور ہمارے سارے کام تیرے فضل سے اپنی تکمیل کو پہنچ جائیں تا کہ تیرے احسانوں میں سے ایک یہ بھی احسان ہو کہ جو کام تو نے ہمارے سپرد کیا تھا اُسے تو نے خود ہی سرانجام دے دیا۔کام تیرا ہو اور نام ہمارا ہو۔آؤ ہم اپنے رب سے یہ دعا کر کے اس جلسہ کو شروع کریں کہ خدا اپنی رحمتوں اور اپنے فضلوں اور اپنی برکتوں کے دروازے ہم پر کھول دے۔آمین۔“ (الفضل ۲۷ / دسمبر ۱۹۴۶ء) دین کی اشاعت اور غلبہ کو اپنا بنیادی مقصد قرار دینے اور اس کے حصول کی خاطر دعا کرنے کی تلقین کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں:۔۔۔جب تک انسان مرنہیں جاتا ہر مقام سے پیچھے ہٹ سکتا ہے حتی کہ اگر وہ شیطان کے دوش بدوش کھڑا ہو گیا ہو اور وہاں سے لوٹنا چاہے تو بھی لوٹ سکتا ہے۔پس میں تمام دوستوں کو جو یہاں جمع ہوئے ہیں خواہ وہ واعظ ہوں یا سامع نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اپنی نیتوں کو درست کر کے خدا تعالیٰ کے آگے جھک جائیں اور نہایت ہی درد مند دل کے ساتھ عرض کریں کہ اے ہمارے رب ہم اس لئے یہاں جمع ہوئے ہیں۔۔۔کہ تا تیرا نام دنیا میں بلند ہو۔تیری عظمت اور جلال دنیا میں ظاہر ہو۔تیرا دین دنیا میں پھیلے۔تیری 162