دُعائے مستجاب — Page 157
دعائے مستجاب۔اس لئے آؤ ہم پھر خدا تعالیٰ کے حضور چلائیں تا جس طرح بچے کے رونے سے ماں کی چھاتیوں میں دودھ اُتر آتا ہے آسمان سے ہمارے ربّ کی نصرت نازل ہو اور وہ روکیں اور مشکلیں جو ہمارے رستہ میں ہیں دُور ہو جائیں۔بعض مشکلات ایسی ہیں جن کا دُور کرنا ہمارے اختیار میں نہیں۔ہم دشمن کی زبان کو بند نہیں کر سکتے اور اس کے قلم کو نہیں روک سکتے۔انکی زبان اور قلم سے وہ کچھ نکلتا رہتا ہے جس کے پڑھنے اور سننے کی ہمت و تاب نہیں۔۔۔اور انصاف کا خون کیا جارہا ہے۔ہم ایک طرف دنیا کو ان مظالم سے مطلع کریں گے تو دوسری طرح اپنے رب سے اپیل کریں گے یہاں تک کہ اس ظلم کے ذمہ دار۔۔۔چکی کے دو پاٹوں کے درمیان آجائیں گے۔ایک طرف خدا کی لعنت ان پر برسے گی اور دوسری طرف شریف الطبع انسان خواہ کسی قوم اور مذہب سے تعلق رکھتے ہوں ان کے افعال پر اظہار نفرت و ملامت کریں گے۔پہنچا۔ہم حکومت سے کسی فائدہ کی توقع نہیں رکھتے بلکہ صرف یہی کہتے ہیں: مر از خیر تو امید نیست بد مرساں یعنی مجھے تجھ سے کسی بھلائی کی اُمید نہیں مگر کم سے کم یہ کر کہ نقصان تو نہ بعض ظاہری تدابیر و اسباب جنہیں ایسے مواقع پر اختیار کیا جاسکتا ہے ان کا ذکر کرنے کے بعد حضور نے فرمایا: 157