دُعائے مستجاب — Page 147
وو دعائے مستجاب۔میں دیکھتا ہوں کہ یہی حال اس وقت ہماری جماعت کے افراد کا ہے۔جب دشمن کا حملہ تھوڑی دیر کیلئے ہٹ جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ اب ہم بچ گئے۔میں پوچھتا ہوں تم کیونکر سمجھتے ہو کہ اب ہم بچ گئے۔۔۔یا درکھو مومن کے دل پر جو زخم لگتے ہیں وہ کبھی مندمل نہیں ہوتے اور اس وقت تک ہرے رہتے ہیں جب تک دوسرے زخموں کے لگنے کا احتمال رہتا ہے۔۔۔پس جبکہ خدا نے اپنی مصلحتوں کے ماتحت ہمارے ہاتھوں اور ہمارے پاؤں اور ہماری زبانوں کو بند کیا ہوا ہے۔جب ایک طرف وہ یہ کہتا ہے کہ جاؤ اور حکومت وقت کی اطاعت کرو اور دوسری طرف یہ حکم دیتا ہے کہ گالیاں سنو اور چپ رہو (سوائے خاص حالات کے مگر اس صورت میں بھی اعتداء سے بچنے کی نصیحت کرتا ہے ) تو ان حالات میں ہمارے لئے سوائے اس کے اور کیا صورت رہ جاتی ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کے حضور دُعا کریں اور اس سے کہیں کہ اے ہمارے ہاتھوں کو روکنے والے اور ہمارے زبانوں کو بند کرنے والے خدا تو آپ ہماری طرف سے اپنے ہاتھ اور اپنی زبان چلا۔پھر کون کہہ سکتا ہے کہ اس کے ہاتھوں سے زیادہ طاقتور ہاتھ بھی دنیا میں کوئی ہے اور اس کی زبان سے بھی زیادہ مؤثر کوئی زبان ہو سکتی ہے۔“ ( الفضل ۱۲۴ پریل ۱۹۳۷ء ) 147