دُعائے مستجاب

by Other Authors

Page 122 of 173

دُعائے مستجاب — Page 122

دعائے مستجاب۔کہتے ہیں کوئی بزرگ تھے۔انہیں ایک دفعہ الہام ہوا کہ تمہیں اب کمائی کی ضرورت نہیں ہم خود تمہیں رزق دیں گے چنانچہ انہوں نے روزی کمانی چھوڑ دی۔ان کے بیوی بچوں کو فکر پیدا ہوا کہ اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو ہم تو بھوکے مرنے لگیں گے۔چنانچہ انہوں نے اور انکے دوسرے رشتہ ں نے انہیں سمجھانا شروع کر دیا کہ آپ یہ کیا کرتے ہیں۔آپ کوئی کام کریں اور فارغ نہ بیٹھیں ایسا نہ ہو کہ فاقوں تک نوبت پہنچ جائے۔وہ کہنے لگے میں اللہ تعالیٰ پر توکل رکھتا ہوں وہ خود میری روزی کا سامان پیدا کرے گا۔جب وہ کسی طرح نہ مانے تو انہوں نے تنگ آکر ان کے ایک دوست سے جو خود بھی بزرگ تھے کہا کہ آپ انہیں سمجھا ئیں شاید وہ آپ کی بات مان جائیں۔چنانچہ وہ آئے اور انہوں نے کہا کہ آپ کام کیا کریں۔فارغ نہ بیٹھیں۔انہوں نے جواب دیا کہ میں تو اللہ تعالیٰ کا مہمان ہوں اور مہمان اگر اپنا کھانا آپ پکائے تو میزبان بُرا منا یا کرتا ہے۔اس لئے میں تو اپنے کھانے کا فکر نہیں کر سکتا۔وہ کہنے لگا آپ اگر اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں تو سنئے۔رسول کریم صلی السلام فرماتے ہیں کہ مہمانی صرف تین دن ہوتی ہے۔اس سے زیادہ نہیں۔پس آپ بھی تین دن ایسا کر سکتے ہیں۔ہمیشہ کیلئے ایسا نہیں کر سکتے۔وہ کہنے لگے میں جس کا مہمان ہوں وہ فرماتا ہے: إِنَّ يَوْماً عِنْدَ رَبِّكَ كَالْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ کہ میرا ایک دن ہزار سال کے برابر ہوتا ہے۔اگر میں ان تین دنوں 122