دُعائے مستجاب — Page 105
دعائے مستجاب۔سورۃ فاتحہ کی عظمت وشان پر روشنی ڈالتے ہوئے حضور سب مسلمانوں کی بہتری کیلئے دُعا کرنے کی تلقین کرتے ہوئے فرماتے ہیں: پس سوچ سمجھ کر دُعائیں کرو اور اپنی قوم کی ضروریات کو مد نظر رکھ کر اور ان کا احساس کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کرو۔اللہ تعالیٰ تمہاری دُعاؤں کو سنے گا اور رمضان کا مہینہ تمہارا استاد بن جائے گا بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ سوچ بچار کرنے سے تم اپنے استاد آپ بن جاؤں گے۔بعض لوگ مجھے کہتے ہیں کہ ہمیں کوئی دُعا سکھا دیں۔میں انہیں جواب دیا کرتا ہوں کہ سورۃ فاتحہ ہی سب سے بڑی دُعا ہے۔جب وہ تمہیں آتی ہے تو پھر تمہیں کسی اور دُعا کے سیکھنے کی کیا ضرورت ہے۔دوسروں کے دعائیں سکھانے سے کچھ نہیں بنتا۔اصل دُعا وہ ہے جو انسان کے اندر سے آپ پیدا ہوتی ہے۔یہ صاف بات ہے کہ جو درد اندر سے پیدا نہ ہو، دوسرے لوگوں کے کہنے سے پیدا نہیں ہوسکتا اور دعا کی قبولیت کیلئے سب سے ضروری چیز یہ ہے کہ اس کے ساتھ رقت اور گداز ہو جتنا سوز و گداز زیادہ ہوگا اتنی ہی دُعا قبولیت کا رنگ اختیار کرے گی۔کسی نے کہا ہے: جو منگے سومر ر ہے جو مرے سوئمنگن جا جو مرتے نہیں ہیں انکی دُعائیں بھی قبول نہیں ہوتیں۔صرف منہ سے کہہ دینے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔جب تک اس دُعا کے ساتھ پر درد جذبات نہ ہوں۔105