حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 84
رشاہ صاحب باب سوم۔۔۔۔۔۔اولاد مخالف رہے۔دونوں نے اپنا ذاتی تجر بہ بیان کیا کہ ڈاکٹر سید حبیب اللہ صاحب کے ہم مداح ہیں کہ آپ قیدیوں سے بلا تفریق مذہب وملت حسن سلوک کرتے تھے۔انہیں سیر بھی کرا دیتے تھے۔اور ان کی غذا کا بھی اچھا انتظام کر دیتے تھے۔اخبار ریاست دہلی کے مشہور ایڈیٹر سر دارد یوان سنگھ مفتون تحریر کرتے ہیں کہ :- جیل کی دنیا کی تاریخ کے مظالم میں لالہ چمن لال، لالہ داروغہ جیل پنجاب ہے مثل تھا۔اس کے بیٹے چمن لال ایم اے کو براہ راست ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل بھرتی۔کیا گیا۔(جس کی) تقرری سب سے پہلے اولڈ سنٹر جیل ملتان میں ہوئی جہاں کہ اس زمانہ میں سپر نٹنڈنٹ کے عہدہ پر ایک بہت ہی نیک دل اور خدا ترس میجر حبیب اللہ شاہ صاحب تھے۔(جو) ڈاکٹر تھے اور مذہبی اعتبار سے قادیان کے احمدی اور احمدیوں کے موجودہ پیشوا کے قریبی رشتہ دار۔آپ کے گھر میں یورپین بیوی (Enaid) تھی۔مگر نیکی، پارسائی، نماز اور روزہ کے اعتبار سے آپ ایک پکے مسلمان تھے“۔کانگرس تحریک میں سینکڑوں کانگرسی قید ہوئے۔دسمبر کا مہینہ تھا۔سردی اپنے جو بن پر تھی۔وارڈ کے معائنہ کے وقت ایک کانگرسی نے رضائی کی لمبائی اور روٹی کی مقدار کم ہونے کی شکایت کی تو چمن لال نے جواب دیا کہ یہ کانگریسی بدمعاش ہے اور جھوٹی شکایت کرتا ہے۔ڈاکٹر صاحب نے رضائی تبدیل کرنے کا حکم دیا۔جیل میں سکھ قیدیوں کی دو پارٹیوں میں جھگڑا ہونے پر چمن لال نے ان پارٹیوں کے دوسر کردہ لیڈروں کی ہڈیاں لاٹھیوں سے تڑوائیں اور الگ الگ کمروں میں بند کر دیا۔بستر نہ دیئے گئے۔(ان میں سے ) ایک صبح نمونیہ سے مرا پایا گیا۔چمن لال نے چاہا کہ یہ معاملہ اسی طرح ختم کر دیا جائے۔جیسے اس کا باپ قیدیوں کو جلتے تنور میں ڈلوا کر ہلاک کرنے پر چھوٹ جاتا تھا۔لیکن ” میجر شاہ نیک دل اور انصاف پسند شخصیت تھے انہوں نے لاش کا پوسٹ مارٹم کرایا۔اور تار دیئے جانے پر انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات موقعہ پر آئے۔چمن لال وغیرہ گرفتار ہوئے۔اپیل در اپیل پر چھن لال کی سزائے میں اضافہ ہو کر پانچ سال کی ہوئی کیونکہ دفعہ ۳۲ کی رو سے اس سے زیادہ قید نہ ہوسکتی جب چمن لال قید میں تھا تو اس وقت میجر سید حبیب اللہ شاہ سنٹرل جیل کے ۸۶