حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 73 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 73

مارشاہ صاحب۔۔۔۔۔۔اولاد باب سوم۔۔۔۔۔۔۔رسیداں سے آیا ہوا تھا اس لئے وہ چلی گئیں۔اطلاع ملی تھی کہ جلسہ سالانہ پر آ رہی ہیں لیکن پھر ۲۶ دسمبر کو مجھے خط ملا کہ وہ انفلوائنزا کی وجہ سے سفر کے ناقابل ہیں پھر تار آیا کہ وہ فوت ہو گئیں ہیں۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔اس مقام پر احمدیوں کے صرف دو خاندان تھے۔اسی خدشہ کی وجہ سے میں انہیں روکتا تھا۔آپ تمام جماعت کے لئے دعا گو رہتی تھیں۔صوم وصلوٰۃ کی وہ اتنی پابند تھیں کہ بڑھاپے کے باوجو د رمضان کے روزے نہیں ترک کرتی تھیں۔حالانکہ میں ان کو مشورہ دیتا تھا کہ اس عمر اور کمزوری میں روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے۔لیکن وہ کہتیں کہ مجھے روزہ ترک کرنے سے تکلیف ہوتی ہے۔ان کی علالت کی اطلاع ملنے سے چند دن پہلے میری بھتیجی سیدہ بشری بیگم صاحبہ (المعروف ”مہر آپا) نے خواب دیکھا کہ کہ ان کی پھوپھی جان کا ایک نیا مکان بنا ہے۔جو خوبصورت ہے۔اس کے ایک بہت ہی سجے ہوئے کمرہ میں ایک تخت پوش پر وہ نماز پڑھنے لگی ہیں۔ان کا لباس نہایت خوبصورت ہے۔ان کو خیال آیا کہ پھوپھی جان کو پانچ روپے نذرانہ دوں اور دعا کی درخواست کروں۔دروازہ سے اس غرض سے جھانکا کہ انہوں نے اللہ اکبر کہا اور نماز میں مشغول ہوگئیں۔میں نے یہ تعبیر بتائی کہ ہمشیرہ موصوفہ کے بلند مقام پر خواب دلالت کرتی ہے اور آپ کی دعا قبول ہو گئی۔مجھے اس خواب سے ان کی موت کا خیال نہ آیا۔وہ دنیا میں عابدہ تھیں اور اسی حالت میں وہ دنیا سے رخصت ہوئیں اور انہیں وہاں عبودیت کا مقام حاصل ہے۔خدا کرے ہمارا انتقال بھی عبد ہونے کی حالت میں ہو *۔(روز نامه الفضل ربوه ۳ جنوری ۱۹۵۱ء صفه ۲) ۲۔حضرت سیدہ خیر النساء بیگم صاحبہ آپ ۱۸۸۶ء میں سیہالہ میں پیدا ہوئیں۔آپ (رفیقہ ) تھیں۔آپ نے ۱۵/ اپریل ۱۹۰۲ء کو بیعت کی۔جلد بیوہ ہو گئیں۔بہت طویل عرصہ تک آپ کو اپنے اقارب کی خدمت کی توفیق ملی۔حضرت سیدہ ام طاہر صاحبہ نے آپ کا دودھ پیا تھا۔رضاعی والدہ ذکر حبیب‘ کے باب میں حضرت سیدہ زینب النساء صاحبہ کی روایت درج کی گئی ہے۔(مرتب) ۷۵