حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 55
ناه صاحب باب دوم۔۔۔۔سیرت و اخلاق تاثرات مکرم و محترم سید داؤ د مظفر شاہ صاحب آپ تحریر کرتے ہیں۔غالباً آٹھویں کلاس میں پڑھتا تھا جب ۱۹۳۷ ء میں حضرت دادا جان (جن کو ہم سب شاہ جی کہہ کر مخاطب کیا کرتے تھے ) کا انتقال ہوا۔قادیان میں رہائش سے قبل کے حالات کا علم نہیں ہے۔جن بزرگوں کو علم تھا وہ تو فوت ہو گئے۔حضرت شاہ جی کی آخری عمر کے حصہ میں (میں ) نے اکثر ان کو نمازیں باجماعت پڑھائی تھیں۔خصوصاً جمعہ کی نماز یں۔وہ نماز با جماعت کے بڑے پابند تھے جب تک صحتمند رہے ( بیت ) میں جا کر نمازیں پنجوقتہ ادا کیا کرتے تھے۔جب چلنے پھرنے سے معذور ہوئے تو سب نمازیں گھر میں ہی باجماعت ادا کیا کرتے تھے۔اس کے لئے ایک ( بیت ) نما تھڑا گھر کے اندر محلہ دارالا نوار قادیان میں حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب کے گھر میں ) اور ایک (بیت) نما چبوترا باہر باغ کے اندر بنوایا تھا۔وہاں مغرب کی نماز باجماعت ادا کیا کرتے تھے۔اس نماز میں باہر کے چند دوست آکر شریک ہوا کرتے تھے۔مغرب کی نماز کے بعد روزانہ عموماً حضرت شاہ جی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نظمیں سنا کرتے تھے“۔۳۔ایک دفعہ جمعہ کی نماز میں نے نہیں پڑھائی۔( میں ) بیت اقصیٰ میں پڑھنے چلا گیا۔واپس آیا تو حضرت شاہ جی ناراض ہوئے۔کہنے لگے تم نے مجھے نماز نہیں پڑھائی۔تمہارا ابا آئے گا ( وہ مشرقی افریقہ کینیا میں مقیم تھے ) تو میں تمہاری شکایت کروں گا۔افسوس اس کے بعد جلد ہی حضرت شاہ جی وفات پا گئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔خاکسار سید داؤ د مظفرشاه دار الصدر شرقی ربوه ۸/جون ۱۹۸۸ء ۵۷