حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 53
ارشاہ صاحب باب دوم۔۔۔۔سیرت و اخلاق سبحان اللہ! اولا د ہو تو ایسی ہو لیکن بعض ایسی بھی اولاد ہوتی ہے کہ والدین جو اور چٹنی وغیرہ سے پیٹ بھریں۔اور اولاد گوشت و پلاؤ سے شکم سیر ہو۔اللہ تعالیٰ ایسوں کو ہدایت دیوے۔اور ان کے قصوروں کو معاف کرے۔ایسی اولاد اپنی بیوی اور بال بچہ کی رضاء کو ہمیشہ مقدم رکھنے سے کبھی بارآور و کامیاب نہیں ہوسکتی۔کم از کم اتنا چاہیے کہ اپنے والد کو اپنی ماہوار آمد سے اطلاع دینی چاہیے کہ حضرت میری اتنی آمدنی ہے اور یہ اس قدر خرچ ہے۔اگر حکم ہو تو یہ رقم قدر آمدنی سے خرچ کر ڈالوں۔تو بھی والدین کی خوشی کا موجب ٹھہرتا ہے“۔( وصیت حضرت شاہ صاحب صفحہ ۳۹۳۸) غیر از جماعت احباب آپ کو پیر مانتے تھے محترم میاں محمد ابراہیم صاحب جمونی مرحوم و مغفور آف ربوہ بیان کرتے ہیں:۔غیر احمدیوں میں ایک طبقہ حضرت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب (اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو ) کا عقیدت مند تھا اور آپ کو پیر مانتا تھا آپ کے احمدیت قبول کرنے کے بعد بھی ان لوگوں کی عقیدت مندی میں مطلقاً فرق نہ آیا۔بلکہ پھر بھی آپ حسب سابق ان میں مقبول تھے اور بزرگ شمار ہوتے تھے۔اور وہ لوگ آپ کی خدمت کرنا باعث سعادت سمجھتے تھے اور خاص و عام آپ کے زہد وانقاء سے متاثر تھے۔میرے آباؤ اجداد کو اس لیے نفس بزرگ کی مریدی کا شرف حاصل ہوا۔ان کی اکثریت غیر احمدی تھی اور ہے۔ان کی انتہائی خواہش ہوتی تھی کہ وہ ڈاکٹر صاحب کو اپنے ہاں ٹھہرانے کا شرف حاصل کریں۔میری عمر کوئی آٹھ نو سال کی ہوگی کہ ڈاکٹر صاحب سیالکوٹ شہر کے محلہ شبہ میں ہمارے بزرگوں کے ہاں تشریف لائے۔مجھے بچپن سے ہی بزرگوں کی باتیں توجہ سے سننے کا شوق تھا۔بتایا گیا کہ ”رعیہ والے شاہ صاحب آئے ہیں۔ملازمت کا بیشتر حصہ اس مقام پر گزارنے کیوجہ سے آپ اس نام سے یاد کئے جاتے ہیں۔یہ بھی