حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 48
ہیں مارشاہ صاحب باب دوم۔۔سیرت و اخلاق (اللہ آپ سے راضی ہو ) نے مجھے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے الہاماً فرمایا ہے کہ میں تجھے بیٹا دوں گا“۔دواڑھائی ماہ کے بعد بجائے لڑکا پیدا ہونے کے لڑکی پیدا ہوئی۔جس کا نام مریم النساء بیگم رکھا گیا۔حضرت ڈاکٹر صاحب نے مجھے علیحدہ لے جا کر کہا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے لڑکا دینے کا وعدہ فرمایا تھا۔لیکن لڑکی پیدا ہوتی ہے۔شاید مجھے اللہ تعالیٰ کا الہام سمجھنے میں غلطی لگی ہے۔اور شاید الہام آئندہ کسی وقت پورا ہونا ہو۔میں نے عرض کیا کہ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس لڑکی کو لڑکوں سے بڑھ کر دے اور یہ اپنی شان اور کام میں بیٹوں سے بھی بڑھ جائے۔جب حضرت مریم النساء بیگم صاحبہ (ام طاہر ) کی شادی سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے ہوئی تو میں نے مبارکباد دی۔اور عرض کی کہ دیکھ لیجئے یہ لڑکی لڑکوں سے بڑھ گئی ہے۔اور اس کی شان بہت بلند ہوگئی ہے۔حضرت شاہ صاحب نے خوشی کا اظہار کیا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی اطلاع کا مطلب تم خوب سمجھے ہو۔روزنامه الفضل ربوه ۳ استمبر ۱۹۵۷ء صفحه ۳) آج فلاں مریض کو تکلیف ہے جا کر دباؤ محترم میاں عطاء اللہ صاحب ایڈوکیٹ مرحوم سابق امیر جماعت احمد یہ راولپنڈی لکھتے عزیز اللہ اور محمود اللہ شاہ صاحبان اللہ ان سے راضی ہو ) کے ساتھ پڑھنے کائی آئی ہائی سکول میں مجھے بھی شرف حاصل ہوا۔حضرت سید محمود اللہ شاہ صاحب نے مجھے سنایا کہ جب حضرت شاہ صاحب گھر تشریف لاتے تو فرماتے کہ آج فلاں فلاں مریض کو تکلیف ہے ان کو جا کر دباؤ۔اور ان مریضوں میں مسلمان ہی نہیں ہندو اور سکھ بھی شامل تھے اور ان لوگوں کی صفائی کا معیار مجھے بیان کرنے کی ضرورت نہیں لیکن یہ پاک صورت و پاک