حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 39
شاہ صاحب باب دوم۔۔۔۔سیرت و اخلاق کہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ (سورة البينة: ٩ ) کا سرٹیفکیٹ بوقت کوچ سفر آخرت حاصل نہ ہو۔تب تک انسان ہمیشہ خطرہ میں ہے۔( وصیت حضرت شاہ صاحب صفحه ۲۳، ۲۶) انہیں یہ فکر رہتا تھا کہ کہیں نماز قضاء نہ ہو جائے حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب اپنے والد ماجد کے اخلاق فاضلہ کے بارہ میں فرماتے ہیں:۔حضرت قبلہ والد صاحب مرحوم کے آخری ایام کے چوبیس گھنٹے بحالت نماز گذرتے انہیں یہ فکر رہتا کہ کہیں نماز اول وقت سے قضا نہ ہو جائے۔کیا دن کی نمازوں کے لئے اور کیا رات کی نمازوں کے لئے بھی اپنی جھلی بیٹی سیدہ خیر النساء کا نام لے کر اور بھی میرا نام لے کر بار بار دریافت فرماتے ولی اللہ شاہ وقت ہو گیا ہے؟ یعنی نمازوں کا۔یہ آواز اب تک میرے کانوں میں گونجتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔اور اس کا تصور الگ نہیں ہوتا۔رات بھر اسی فکر میں جاگتے رہتے کہ کہیں نماز تہجد قضاء نہ ہو جائے گویا نماز کے انتظار میں ان کے سارے اوقات بحالت نماز تھے۔اور سلسلہ اور اس کی ترقی کے لئے اور جماعت کے ہر فرد کے لئے وہ دعاؤں میں مشغول رہتے۔اور عجیب عجیب طریقوں سے جناب الہی کی رحمت کو تحریک فرمایا کرتے۔جب کبھی مجھے حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کسی کام کے لئے باہر بھیجتے اور میں واپس آتا تو مجھ سے دریافت فرماتے کیا مقصد میں کامیابی ہوگئی ؟ اور جواب سن کر فرماتے تم تو باہر کے میدان میں جہاد کر رہے تھے اور میں یہاں اپنی دعاؤں کے ذریعہ تمہاری کامیابی کے لئے جہاد کر رہا تھا۔سلسلے کے تمام مربیان کے لئے خصوصیت سے وہ دعاؤں میں لگے رہتے تھے۔اس خیال سے کہ وہ اب اور کوئی کام نہیں کر سکتے۔دعا کا کام ہے جو وہ آسانی سے کر سکتے۔میں احباب سے امید کرتا ہوں کہ اس دعا گو مجاہد کی درخواست کو قبول کرتے ہوئے ان کی مغفرت اور روحانی ترقیوں کے لئے ۴۱