حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 38 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 38

66* شاہ صاحب باب دوم۔۔۔سیرت و اخلاق اسلام * میں فنا اور بقا کی منازل میں اور براہین احمدیہ کے حصہ پنجم ** میں روحانی ترقی کے مقامات ستہ میں بالتفصیل فرمایا ہے۔وہاں ملاحظہ کرو۔اور ان مقامات کے حصول کے لئے دعائیں کرو۔اور کوشش کرو کہ اس منزل پر تم کو اللہ تعالیٰ پہنچا دیوے کیونکہ یہ قابل عزت اور اعلیٰ درجہ مقام قرب الہی ہے۔مگر اس مقام پر بھی پہنچ کر تم کو مطمئن اور نازاں نہیں ہونا چاہیے۔جب تک کہ آخری کوچ اس دنیا سے ہو کر عالم برزخ یا عالم بقا میں اُن پاس شدہ مقبولانِ الہی کی ہمسائیگی میں تم کو جگہ نہ ملے۔تب تک لگا تار دعاؤں میں لگے رہو۔جیسا کہ حضرت یوسف علیہ السلام با وجود نبی مقرب ہونے کے اپنے آخری وقت نزع تک یہ دعامانگتے رہے۔ربّ قَدْ اَعْطَيْتَنِي مِنَ المُلْكِ وَ عَلَّمْتَنِي مِنْ تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ (سورة یوسف : ۱۰۲)۔یعنی اے رب ! زمینی و آسمانی نعمت دنیوی سلطنت و نبوت سے تو نے مجھ کو ممتاز کیا ہے۔اے فاطر السموات والارض یعنی معطی نعماء سماوی ارضی چونکہ اب میں تیرے حضور حاضر ہونے والا ہوں۔انت ولى فى الدنيا والآخرة تو ہی میری سب مشکلات اور حاجات دنیوی و آخرت کا متولی رہا ہے۔اور اس لئے تیرے حضور اے رب میری یہ عرض ہے کہ اب تو ہی میرا خاتمہ بالخیر کیجئیو۔وہ یہ کہ تَوَفَّنِی مُسْلِمًا وَالْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ (سورۃ یوسف:۱۰۲)۔حضور میری یہ دو عرضیں ہیں، زیادہ نہیں۔اوّل میری وفات اسلام پر ہو۔دوم میرا الحاق اور ہمسائیگی با صالحین ہو۔یعنی انبیاء وشہداء وغیرہ کے زمرہ میں میرا مکان و بود و باش ہو۔ایسا نہ ہو کسی معمولی مومن و معمولی منعم کی رفاقت ہو بلکہ اعلیٰ درجہ کے منعم علیہ گروہ میں شمولیت ہو۔آمین۔جب ایک نبی کا یہ حال ہے تو ہم کس شمار میں ہیں۔کیونکہ ذات الہی غنی ہے پر واہ اور غیور ہے۔جب تک اے * ملاحظہ ہو آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد نمبر ۵ صفحه ۶۳ تا ۸۰ **ملاحظہ ہو براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۵ ۱۸ تا ۲۲۸