حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 200 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 200

شاہ صاحب باب ہفتم۔۔باز نہیں آتا اور اس کی فطرت ایسی ہے تو نیک اپنی نیکی اور حسن سلوک جو اس کی خاص فطرت اور اس کا طبعی خاصہ ہے اس کو وہ کیوں بدلتا ہے۔وہ اپنا کام کریں تم اپنا کام کرو۔اگر تم اس کے معاوضہ و انتقام میں بدخلقی اور بُرانمونہ دکھلاؤ گے تو تم بھی بد بن جاؤ گے۔اور اپنی فطرت پاک پر سخت ظلم کرو گے تم اپنی فطرت مت بدلو۔تمہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اخلاق اپنے دشمنوں اور اپنے ذوی الاقرباء سے برتنے چاہئیں۔دواز دہم : مہمان نوازی اور سخاوت و حاجت روائی سائلان اور محتاجوں کی امداد میں اپنی جان و مال تک فرق نہ کرو اور ان سے کشادہ پیشانی سے پیش آؤ اور جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نمونہ دکھلایا۔مہمان نوازی اور سخاوت حاتم طائی میں بزرگان گذشتہ کا نمونہ اختیار کرو۔خصوصاً مہمان نوازی اور سخاوت کا فعل نہایت ہی مقبول ورضاء الہی کا موجب و پر تو صفات الہی کا اعلیٰ نمونہ ہے۔خود بھوکے رہ کر اور تکلیف بھی اٹھا کر مہمان کی خدمت و دلجوئی اور سائل کی حاجت براری میں مخلص اور بے ریاء ہوکر ، بلکہ اس خدمت اور کام میں چستی سے اور محبت سے اور محض رضاء الہی کے لئے کمر ہمت باندھو تا کہ ثواب دارین حاصل ہو۔ایسے کاموں میں صحابہؓ کا نمونہ بھی ملاحظہ کرو۔سیز دہم : اگر کوئی مصیبت افلاس یا کوئی اور ابتلاء آ جائے۔تو فور أصدقہ و خیرات اور توبہ و استغفار و انابت الی اللہ اور دعاؤں اور تضرع سے کام لو۔خصوصاً صدقہ و خیرات کو مقدم رکھو۔اگر تم پر افلاس اور تنگی رزق کا زمانہ آ جائے تو بھی حسبِ توفیق صدقات اور خیرات سے محتاجوں کی حاجت براری کرتے رہو۔خواہ خود بھوکے رہو۔مگر یہ گر نہ بھولنا۔بفضلہ تعالیٰ رزق اور وسعتِ مال کے دروازے کھل جاویں گے۔الا ماشاء اللہ۔افلاس اور تنگی میں بھی مہمان نوازی کا حسب توفیق حق ادا کرو۔مہمان اپنا نصیب اور مقدر اور حصہ رزق جو تمہاری کمائی میں اس کا ملا ہوا ہے۔علیحدہ کرنے کیلئے آتا ہے وہ تمہارا تو کچھ نہیں کھاتا اپنا کھاتا ہے۔مگر اللہ تعالیٰ تم کو اس خدمت کا مفت ثواب دیتا ہے۔کیا تم نے نہیں سنا۔٢٠٢