حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 10
ارشاہ صاحب باب اول۔۔۔۔۔۔ابتدائی حالات دعاؤں کے ذریعہ توجہ جاری رہے۔کیونکہ فیضان الہی کا اجراء قلب پر صحبت صالحین کے تکرار یا بذریعہ خطوط دعا کی یاد دہانی پر منحصر ہے۔(سیرۃ المہدی حصہ سوم روایت نمبر ۸۹۵) بیعت کے بعد کی کیفیات حضرت سید عبدالستار شاہ صاحب بیان فرماتے ہیں:۔”جب میں بیعت کر کے واپس ملازمت پر گیا تو کچھ روز میں نے اپنی بیعت کو مخفی رکھا۔یہاں تک کہ گھر کے لوگوں سے بھی میں نے ذکر نہ کیا۔کیونکہ مخالفت کا زور تھا۔اور لوگ میرے معتقد بہت تھے۔رفتہ رفتہ یہ بات ظاہر ہوگئی اور بعض آدمی مخالفت کرنے لگے۔لیکن وہ کچھ نقصان نہ کر سکے۔کے لوگوں نے ذکر کیا کہ بیعت تو آپ نے کرلی ہے۔لیکن آپ کا پہلے پیر ہے اور وہ زندہ موجود ہے۔وہ ناراض ہوکر بددعا کرے گا۔ان کی آمد و رفت اکثر ہمارے پاس رہتی تھی۔میں نے کہا کہ میں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے بیعت کی ہے۔اور جن کے ہاتھ بیعت کی ہے وہ صحیح اور مہدی کا درجہ رکھتے ہیں کوئی اور خواہ کیسا ہی نیک اور ولی کیوں نہ ہو وہ اس درجہ کو نہیں پہنچ سکتا اور اس کی بد دعا کوئی بداثر نہیں کرے گی۔کیونکہ انما الأعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ۔(بخاری کتاب بدء الوحی حدیث نمبرا ) اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔میں نے اپنے اللہ کو خوش کرنے کے لئے یہ کام کیا ہے اپنی نفسانی غرض کے لئے نہیں کیا۔سو میرے پہلے مرشد کچھ عرصہ بعد بدستور سابق میرے پاس آئے اور میری بیعت کا معلوم کر کے انہوں نے مجھے کہا کہ آپ نے اچھا نہیں کیا۔جب آپ کا مرشد موجود ہے تو اس کو چھوڑ کر آپ نے یہ کام کیوں کیا ؟ آپ نے ان میں کیا کرامت دیکھی؟ میں نے کہا میں نے ان کی یہ کرامت دیکھی ہے کہ ان کی بیعت کے بعد میری روحانی بیماریاں بفضل خدا دور ہوگئی ہیں۔اور میرے دل کی تسلی ہو گئی ہے۔انہوں نے کہا میں بھی ان کی کرامت دیکھنا