حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 98 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 98

مارشاہ صاحب۔۔۔۔۔۔اولاد باب سوم۔۔۔۔اللہ ) میں آپ ذوق و شوق سے حصہ لیتے رہے۔اور ( جماعتی فنڈ کا مقامی چندہ بھی آپ باقاعدگی سے دیتے رہے۔رپورٹ سالانہ صدر انجمن احمد یه قادیان ۱۹۳۴ ، ۱۹۳۵ صفحه ۵۲۵) تعمیر بیت شوره حضرت خلیفہ مسیح الثانی (اللہ آپ سے راضی ہو ) نے ہدایت فرمائی تھی کہ مشرقی افریقہ میں (بیت) کی تعمیر کی طرف خاص طور پر توجہ دی جائے جماعت احمدیہ کے لئے کام آسان نہ تھا۔طبورہ میں ایک قطعہ پر تعمیر کا کام شروع ہونے پر غیر از جماعت مسلمانوں نے شدید مخالفت کی۔حالات کے مد نظر انتظامیہ اور گورنر نے اجازت نہ دی۔اس قطعہ میں تعمیر کی اجازت نہ ملنا برکات کا موجب ہوا۔۱۹۴۲ء میں دس ہزار مربعہ فٹ کا ایک نہایت عمدہ اور با موقعہ اور بہتر قطعہ نانوے سال کی اقساط پر اور صرف ایک شلنگ سالانہ کرایہ پرمل گیا۔جنگ عظیم دوم کا زمانہ تھا۔عمارتی سامان پر حکومت کا کنٹرول تھا۔مگر حکومت نے فراخ دلی سے سامان تعمیر کی اجازت دے دی۔مزید یہ نصرت الہی حاصل ہوئی کہ جب کہ معمار اور ترکھان کی روزانہ اجرت ہیں شلنگ تھی اٹالین جنگی قیدی جو کئی ہزار وہاں آچکے تھے اور ان میں بہترین معمار وغیرہ تھے وہ صرف دو شلنگ روزانہ اجرت پر میسر آگئے۔حضرت مصلح موعود (اللہ آپ سے راضی ہو ) نے اس کا نام ( بیت ) فضل تجویز فرمایا جو اواخر ۱۹۴۴ء میں تکمیل کو پہنچی۔اس پر پینتیس ہزار شلنگ صرف ہوئے۔حضرت سید محمود اللہ شاہ صاحب، سید عبدالرزاق شاہ صاحب، فضل کریم صاحب لون، عبدالکریم صاحب بٹ اور محمد اکرم صاحب غوری نے خصوصاً اور دیگر ایشیائی اور افریقین احمدیوں نے عموماً تعمیر ( بیت ) میں مدد دی۔(روز نامه الفضل ربوه ۱۲۵ اپریل ۱۹۵۲ء صفحہ ۶۔الفضل قادیان ۲۱ نومبر ۱۹۴۲ء صفحه ۴ ) سچ کی برکات ۱۹۴۴ء میں حضرت سید محمود اللہ شاہ صاحب جماعت احمد یہ افریقہ کی مرکزی انجمن کے پریذیڈنٹ تھے۔چوہدری محمد شریف صاحب بی اے ( مقیم نیروبی ) نے بیان کیا کہ