حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 99
رشاہ صاحب۔۔۔۔۔۔اولاد باب سوم۔۔۔۔۔۔۔حضرت سیدہ ام طاہر صاحبہ (اللہ آپ سے راضی ہو ) کی وفات پر تعزیت کے لئے ہم ان کی خدمت میں پہنچے۔تو آپ نے بتایا کہ آج صبح کشفا مجھے ایک نظارہ دکھا کر یہ علم دیا گیا ہے۔کہ دنیا پر بہت سی آفات کا نزول شروع ہو گیا ہے۔اور پہلے کئی دفعہ میری زبان پر یہ دعا جاری ہوتی رہی۔اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُبِكَ مِنْ جُهْدِ الْبَلَاءِ وَدَرُكِ الْشَّقَاءِ وَسُوءِ الْقَضَاءِ وَشِمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ (اتحاف جلد ۵ حدیث نمبر ۸۴ بحواله موسوعه جلد ۲ صفحه ۲۱۶) (اے اللہ ! میں بلا کی تکلیف سے اور بدبختی کے آنے سے اور برے فیصلہ سے اور دشمنوں کے خوش ہونے سے تیری پناہ چاہتا ہوں ) اس کشف کے بعد کی بات ہے کہ حضرت سید صاحب خرابی صحت کی بناء پر رخصت پر ہندوستان آرہے تھے۔جنگ عظیم دوم کے حالات میں چونکہ بحری سفر مخدوش تھا۔آپ نے حضرت مصلح موعود اور حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب (اللہ آپ سے راضی ہو) کی خدمت میں دعا کی خاطر خطوط لکھے اور اطلاع کی کہ عنقریب سفر اختیار کیا جارہا ہے تار بھی دی جائے گی۔حکومت نے شبہ کیا کہ جنگ کے حالات میں یہ خطوط اور تار د شتمن کے ہاتھ آ جائے تو برطانوی جہازوں اور جانوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔اس وجہ سے ڈیفنس ایکٹ کے تحت آپ پر مقدمہ دائر کیا گیا۔وکلاء نے خیر خواہی کے طور پر مشورہ دیا کہ آپ اپنے خطوط کے بارے میں خاموش رہیں۔بار ثبوت پولیس پر ہے کہ وہ ثابت کرے کہ یہ خطوط آپ کے تحریر کردہ ہیں۔لیکن آپ نے یہ مشورہ قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ نتیجہ خواہ کچھ ہو میں سچائی سے ذرہ بھر انحراف نہ کروں گا۔ایک انگریز مسٹر ایڈ ورڈنکن حضرت شاہ صاحب کی طرف سے گواہ کے طور پر پیش ہوئے۔جو تمیں سال تک ڈپٹی کمشنر قائم مقام کمشنر اور پنجاب گورنمنٹ کے سیکرٹری کے معز عہدوں پر فائز رہ چکے تھے اور ضلع گورداسپور کے بھی ڈپٹی کمشنر رہے تھے۔اور کئی اضلاع میں حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب سول سرجن (اللہ آپ سے راضی 1+1