حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 27 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 27

مارشاہ صاحب باب اول۔۔۔۔ابتدائی حالات میری روح اللہ تعالیٰ کے حضور جا کر سجدہ نہیں کرتی۔اور یہ حالت ہوتی ہے تو میں اس وقت ( دین حق ) اور ساری جماعت احمدیہ کے لئے دعاؤں میں لگ جاتی ہوں“۔الفضل قادیان ۱۱دسمبر ۱۹۲۳ ء صفحه ۸،۷) حضرت سیدہ سعیدۃ النساء بیگم صاحبہ کی دعا سے شفایابی محترم بابا اندر جی بیان کرتے ہیں:۔مجھے حضرت ڈاکٹر صاحب کے پاس آئے ابھی تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ حضرت مائی جی ( حضرت سیدہ سعیدة النساء بیگم صاحبہ والدہ حضرت سیدہ ام طاہر صاحبہ ) نے مجھے کہا۔اندر! تو بہ کرو۔اور اپنی اصلاح کرو۔خدا تعالیٰ تم پر ناراض ہے۔میں نے آپ کی اس نصیحت کو زیادہ اہمیت نہ دی اور اپنی روش پر قائم رہا۔کچھ عرصہ بعد میرے کندھے کی ہڈی پر ایک تکلیف دہ خطرناک پھوڑا نکل آیا۔دعا کے لئے عرض کرنے پر آپ نے فرمایا کہ میں نے تمہیں کہا تھا کہ خدا تعالیٰ تم پر ناراض ہے۔تو یہ کرو اور اصلاح کرو اور اس کو خوش کر و۔اب تمہیں پھوڑا نکل آیا ہے اب بھی تو بہ کرو۔چنانچہ آپ بھی میرے لئے دعا کرتی رہیں اور میں نے بھی دعا شروع کی اور مجھے شفائے کاملہ ہوگئی۔میری شادی ہوگئی۔زچگی پر بیوی کو پرسوت کا بخار ہوا۔ڈاکٹر صاحب کے علاج سے فائدہ نہ ہوا۔مجھے بہت گھبراہٹ تھی۔مائی جی کے کہنے پر میں نے بیوی کو ان کے پاس بھیج دیا۔آپ کے علاج سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے تین دن میں ورم بخار دور ہو گیا علاج یہ تھا۔اجوائن چار تولے ابال کر ایک تہائی جو شاندہ سے حلوہ بنا کر دن میں تین بار کھایا جائے۔اور بقیہ جوشاندہ سے ٹکور کی جائے۔آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق رکھنے والے بندے موجود ہیں جن کی دعا توجہ اور علاج سے شفا ہو سکتی ہے۔ایک دفعہ آپ سفر پر تشریف لے گئیں۔ایک برساتی نالہ کی طغیانی کی وجہ سے آپ کو ایک معزز گھرانے میں چند دن ٹھہر نا پڑا۔ایک روز آپ نے مجھ ۲۷