حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 211
رشاہ صاحب باب ہفتم۔۔حضرت زکریا علیہ السلام کے زیر تر بیت باکمال ہوگئیں۔اسی طرح سے تم بھی ان کی تربیت کا خیال رکھو۔یادرکھو کہ بد صحبت و بد تربیت و بد تعلیم سے اولادتباہ ہو جاتی ہے۔اس لئے ان کو ایسی صحبتوں سے ابتداء سے ہی بچاتے رہو۔ورنہ وہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کی بے فرمان ہوگی۔اپنی قوم سادات کی اصلاح و بہبودی کے لئے بھی خاص کر درد دل سے تم دعائیں مانگو، اور ان کو خوب ( دعوۃ الی اللہ ) کرو کیونکہ یہ خاندان اب مغضوب علیہ اور ذلیل اور تباہ ہو گیا ہے۔اگر یہ متقی صالح اور باخدا ہوتے تو پھر ان کے مورث اعلیٰ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعمت وراثت یعنی مہدویت و عیسویت کے وارث حضرت سلمان فارسی رحمۃ اللہ علیہ کی اولاد کیوں ہوتی اور یہ ہمیشہ کیلئے محروم الارث قیامت تک ہو گئے۔اب بھی اگر اس قوم کو خدا تعالیٰ ہدایت دیوے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اتباع اور غلامی سے اپنے مورث اعلیٰ کی نعمت سے مستفیض ہو سکتے ہیں۔ورنہ پھر یہ محرومی قیامت تک ان کے گلے کا ہار ہو جاوے گی۔العياذُ بِاللَّهِ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اس کے لئے تم کو چاہئے کہ خوب درد دل سے دعائیں مانگتے رہو اور ان کی یہودی کیلئے کوشاں رہو۔تاکید ہے۔تخلق باخلاق اللہ سے متاثر ہو کر اپنے اندرا خلاق فاضلہ وحمیدہ پیدا کرو۔وہ رب ہے۔تم بھی محتاج مخلوق کے ساتھ ربوبیت کرو۔وہ رحمان ہے۔تم بھی بلا معاوضہ اپنے ہم جنس و غیر محتاجوں کے ساتھ بلا بدل نیکی اور احسان کرو وہ رحیم ہے تم بھی اپنے محسنوں اور فیاضوں کا رحیمی صفات کے ماتحت پورا پورا معاوضہ وحق ادا کرو۔حتی کہ اپنے ملازموں اور نوکروں سے حسن سلوک اور اپنے فرزندوں کی طرح ان کی پوری پوری خدمت کرو اور ان سے محبت و ہمدردی اور سلوک سے پیش آؤ۔کسی قسم کی ان پر سختی اور ظلم نہ کرو کیونکہ وہ تمہارے محتاج ہیں اور تمہاری ہم جنس مخلوق الہی ہیں۔اسی طرح جمیع اوصاف الہیہ عفو، احسان، ستاری، غفاری، حلم، مروت واحسان وغیرہ سے متصف ہوکر کیا خویش کیا بیگانہ، سب کے ساتھ ہمدردی سے پیش آؤ۔تا تم پر رحم کیا ۲۱۳