حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 210 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 210

رشاہ صاحب باب ہفتم۔۔مضر ہوگی۔اور خَسِرَ الدُّنْيا وَالآخرۃ کا مصداق بنادے گی۔اور آئندہ جو تمہارے ہاں اولاد ہوگی وہ بھی تم سے ایسا ہی سلوک کرے گی۔جیسا تم نے اپنے والدین سے کیا ہے۔مجھ کو خوب یاد ہے، اور تجربہ ہے کہ میرے اپنے اقرباء میں سے ایک سید تھے جو اب مر گئے ہیں۔وہ اپنی بیوی پر سخت مفتون تھے۔اور اس کی محبت میں سر شار ہو کر اپنی ضعیف والدہ کی خدمت و آداب اور تواضع سے بالکل غافل ہو گئے۔جس سے اُن کی والدہ سخت تنگی اور مفلسی اور بھوک پیاس میں وقت گزار کر فوت ہوگئی۔آخر کار ان کے فرزند شیدائی زوجہ کی آخری حالت سخت بھوک اور افلاس و شقاوت اور ایسی مصیبت میں گذری کہ وہ سخت بیمار ہوکر جس قریبی رشتہ دار برادران و ہمشیرگان کے پاس علاج و گزارہ مایحتاج کیلئے جاتا تو اس کے قدم و قیام منحوس سے وہ بھی رنگا رنگ کے مصائب میں مبتلاء ہو جاتے اور وہ اس کو نکال دیتے۔وہ پھر دوسرے رشتہ دار کے ہاں جاتا۔وہاں بھی اس کا یہی حال ہوتا۔آخر وہ بڑی ذلت سے مر گیا۔اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے اور اس کے قصور معاف کرے۔اس لئے تم ناراضگی والدین کو ایک قہر الہی سمجھو کیونکہ خدا تعالیٰ نے اپنے حقوق کے ساتھ والدین کے حقوق مساوی کر دیئے ہیں۔ان اشْكُرُلِی وَلِوَالِدَيْكَ ( سورة لقمان : ١٣ ) وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا (سورة البقره: ۸۴) کا حکم سخت تاکید رکھتا ہے تو پھر ان کی ناشکری قہر الہی کا موجب کیوں نہ ہو۔یہ یاد رکھو کہ والدین اپنی اولاد کو کبھی بھی زبان سے بددعا نہیں دیتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان کی بددعا کا بداثر اُلٹ کر اُن کے قلب کو پریشان کرے گا۔خواہ اولادکیسی ہی تکلیف دے۔مگر یہ بھی صحیح ہے کہ ان کی دل شکنی اور تکلیف وہی خود بددعا کا رنگ قبول کر لیتی ہے۔کیونکہ وہ عالم الغیب ذات مالک یوم الدین اور غیور ہے اس کی غیرت فورا جوش مارتی ہے اور ایسی اولاد کی سزاد ہی پر فوراً تیار ہو جاتی ہے۔اس لئے تم اپنی اولاد کی تربیت کی حسب حکم قرآن شریف و ہدایت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم خوب نگرانی کرتے رہو اور صحبت صالح و اتالیق متقی و استاد بالخُدا کے سپر د کرو۔جس طرح سے حضرت مریم علیہا السلام ۲۱۲