حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 79
مارشاہ صاحب سوم۔۔۔۔۔۔اولاد باب سوم۔۔۔۔کے وعدوں کے مطابق اپنے اپنے وقت پر آئیں گے۔میں جو کچھ کہتا ہوں ہوں وہ یہ ہے کہ وہ پیش گوئی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر اس شہر ہوشیار پور میں سامنے والے مکان میں نازل ہوئی جس کا اعلان آپ نے اس شہر سے فرمایا اور جس کے متعلق فرمایا کہ وہ نو سال کے عرصہ میں پیدا ہوگا۔وہ پیش گوئی میرے ذریعہ سے پوری ہو چکی ہے اور اب کوئی نہیں جو اس کا مصداق ہو سکے۔الفضل قادیان ۲۴ فروری ۱۹۴۴ صفحه ۳) اس انکشاف کے بعد جن اہل قلم احمدیوں نے اس پیشگوئیوں کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا ان میں حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب (اللہ آپ سے راضی ہو ) بھی شامل تھے۔چنانچہ اخبار الفضل قادیان بابت مارچ تا جولائی ۱۹۴۴ء کے شماروں میں آپ کے پر معارف مضامین شامل ہیں۔بعد ازاں اٹھارہ (مربیان ) یا ان کے نمائندگان نے قریباً دو درجن ممالک کے متعلق باری باری اس امر پر روشنی ڈالی کہ پیشگوئی کی یہ بشارت کہ۔خدا تیری تبلیغ کو دنیاکے کناروں تک پہنچا دے گا حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے ذریعہ بہت شان و شوکت کے ساتھ پوری ہو چکی ہے۔ہر ایک کی تقریر کے دوران جس ملک کی ( دعوۃ الی اللہ ) کا ذکر ہوتا تو اس ملک کا نام جلی حروف میں سامعین کے سامنے لٹکا دیا جاتا۔ان ( مربیان ) میں حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب بھی شامل تھے۔آپ کی تقریر ملک شام کے بارے میں تھی۔بعد ازاں صاحب مکان کی اجازت ے حضرت مصلح موعود نے پینتیس احباب سمیت اس مقدس کمرہ میں دعا کی۔دیگر باہر گلی میں اور ملحقہ میدان میں جلسہ ہوا تھا۔احباب دعا میں شریک ہوئے۔حضور کے ارشاد پر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے احباب کو اندر بھجوانے کا اہتمام کیا۔حضور کا ارشاد تھا کہ۔اس موقع پر کسی ذاتی غرض کے لئے دعا نہ کی جائے بلکہ صرف ( دین حق ) کی ترقی وشوکت کے لئے دعا کی جائے۔ΔΙ