حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 68
شاہ صاحب باب دوم۔۔۔۔سیرت و اخلاق پیغام بھجوایا ہے۔چنانچہ حضرت مولوی رحیم بخش صاحب تحریر کرتے ہیں:۔خاکسار معه سید عبدالستارشاه صاحب ڈاکٹر رعیہ بماہ مئی ۱۹۰۶ء بحضور والاشان مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام بغرض زیارت قادیان دارالامان پہنچا۔بروقت رخصت حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ تمہارا تعلق بوجہ ہم اعتقادی و ہم طریق مولوی محمدحسین بٹالوی و مولوی عبدالجبار غزنوی وغیرہ سے رہا ہے۔ان کو ہمارے دعویٰ میں شک ہے تو ان کو زبانی امورات ذیل سے آگاہ کر دو۔شاید کوئی سعید فطرت سمجھ جائے۔ا۔پیشگوئیاں انبیاء سابق ۲۔شہادت اللہ تعالیٰ بذریعہ مکالمہ و مخاطبہ بقولہ تعالى قُلْ كَفَى بِاللَّهِ شَهِيداً بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ۔(سورة بنی اسرائیل : ۹۷) یعنی امور غیبیہ کا اطلاع دینا قبل وقوعہ امر واقعہ اور پھر ان کا ظہور ہو جانا۔۳۔ترقی جماعت مبائعین و تبدیلی حالات بہ تحت احکام ہو کر مقتضی ہونا مخلوق اللہ کا ، یہ بھی سنت اللہ چلی آئی ہے جس پر نظر غور و نظر کمال جائے۔امورات مذکور سے ہمارا دعویٰ ثابت ہوتا ہے۔سو کمترین معہ ڈاکٹر صاحب موصوف صاحبان مذکور (مولوی محمد حسین بٹالوی ،مولوی عبدالجبار غزنوی) کی خدمت میں حاضر ہوکر سنانے گئے۔انہوں نے جو جواب دیئے بذریعہ نیاز نامہ حضرت اقدس کی خدمت میں عرض کیا گیا تھا۔اس پر حضرت اقدس علیہ السلام نے نواز نامہ بنام کمترین رحیم بخش عرائض نولیس درجہ اول بمقام رعیہ سکنہ فتو کے دستخطی خود ارسال فرمایا جو ذیل میں حرف بہ حرف مشتہر ہونے کے لئے حضرت ممدوح ، درج اخبارات بدر والحکم پیش کرتا ہوں اور اجازت طبع ہونے کی بذریعہ مفتی محمد صادق صاحب ایڈ میٹر بدرجلد عام ہوگی“۔