حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 37 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 37

مارشاہ صاحب باب دوم۔۔۔۔سیرت و اخلاق بھی محروم نہیں جاتا۔تو گویا وہ تو بھیک مانگنے والے فقیروں اور سوالیوں کے رنگ میں اس معطی و منعم کے فیض سے محروم نہیں رہتا۔بہر حال یہ سائل ہے اور وہ معطی ہے۔یہ کیا بن گیا۔آخر ہم انسان بھی تو اپنے گھر کے کتے کو جو ہمیشہ ہمارے دروازے پر گرا رہتا ہے ، ہڈی یا ٹکڑا ڈال دیتے ہیں۔تو اس سے اُس شان یا فطرت میں کوئی فرق نہیں پڑسکتا۔انسان انسان ہے، کتا کتا ہی ہے۔اس میں اُس کے لئے کون سی شان یا فخر ہے۔اسی طرح سے بندہ بندہ ہے، اور خدا خدا۔یہ سائل ہے اور وہ معطی ہے۔ہاں البتہ اُس کا فضل و احسان ہے کہ وہ اپنے سائل کو اور اپنے دروازہ پر افتادگان کو نواز نے اور انہیں اپنے وجود اور فیضان ربوبیت سے بھی بھی محروم نہیں رکھتا۔( وصیت حضرت شاہ صاحب صفحه ۲۱-۲۳) فلسفه دعا حضرت سید عبدالستار شاہ صاحب دعا کی بابت تحریر فرماتے ہیں:۔دعا تو اللہ تعالیٰ سے فیوض و برکات حاصل کرنے کا ایک ذریعہ اور ابتدائی منزل ہے۔اس لئے تم کو اس منزل مبارک کے حصول کے لئے سر سے پاؤں تک کوشاں اور ہر حالت میں چلتے پھرتے حسب فرصت دعاؤں کو طبع خانی کی طرح اپنا شیوہ و و تیرہ اور بقاء روح کے لئے انہیں وسیلہ اور دار و مدار حیات روح سمجھنا چاہیے۔اگر ایسی حالت میسر ہو جاوے تو شکر کرو اور اس کا فضل و احسان سمجھو کہ تمہارے سوالوں اور دعاؤں کو رد نہیں کرتا۔اور یہ کہ تم نے اپنا حقیقی اور معطی رب شناخت کر لیا اور اُس نے اپنے سائل اور محتاج بندہ کی حالت دیکھ لی ہے کہ اس کا کوئی ذریعہ قضائے حاجات کا میرے بغیر نہیں ہے۔پس وہ رفتہ رفتہ اپنے فضل و احسان سے تمہاری سائلا نہ ومحتاجانہ حالت سے ترقی دے کر اپنے قرب کے اُس مقام پر تم کو پہنچا دے گا۔جس کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آئینہ کمالات ۳۹