حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 36
رشاہ صاحب باب دوم۔۔۔سیرت و اخلاق نہ ہوئی ہوں گی۔مگر وہ جو میری منشاء کے مطابق بظاہر قبول نہیں ہوئی تھیں وہ بھی درحقیقت رد نہیں ہوئی ہیں۔بلکہ دوسرے رنگ میں قبول ہوئی ہیں۔یعنی یا تو وہ میرے حق میں مضر اور موجب نقصان عظیم تھیں ، اس لئے فیاض مطلق نے مجھ کو بذریعہ رد محفوظ رکھا۔یا اس کے عوض اور کوئی بلا یا مصیبت جو میری شامل اعمال کا نتیجہ تھی وہ ٹال دی۔یا اس کا نتیجہ عالم برزخ میں میرے لئے بطور امانت رکھا۔بہر حال یہ بھی سب قبولیت کے انعام میں ہوا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ تو کسی کی دعا جو خلوص قلب اور تضرع سے کی جاوے کبھی بھی رد نہیں کرتے۔دعا ایک بیج کی طرح ہے۔جب کوئی بیج کسی غلہ کا یا جنس کا زمین میں بویا جاوے۔تو عمدہ زمین میں بلحاظ حفاظت و نگہداشت کے وہ بیج اپنی اپنی فطرتی استعداد کے لحاظ سے ضرور زمین پر اپنا رنگ اور روئیدگی کا جامہ پہن کر نمودار ہوتا ہے۔مگر ہر جنس کے بیج کے نمودار ہونے کی مختلف میعادیں ہوتی ہیں۔وہ ضرور اپنی اپنی میعاد پر اپنی نشو و نما پاتے ہیں۔اسی طرح سے سب دعائیں قبول ہوتی ہیں۔اور جو نہیں قبول ہوتیں، وہ دوسرے رنگ میں ظاہر ہو کر رہتی ہیں۔اور دعا کنندہ سمجھ لیتا ہے کہ میری منشاء کے مطابق قبول نہیں ہونی چاہیے تھیں۔پس بعض دعا ئیں تو فوراً دعا کرتے ہی اور بعض ایک ماہ میں، بعض ایک سال میں ، اور بعض اس سے زیادہ عرصہ میں قبول ہوتی ہیں۔جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا حضرت رسول کریم ﷺ کے حق میں تین ہزار سال کے بعد قبول ہوئی۔الغرض دعاؤں میں مایوسی اور ضعف اور تکان اور بزدلی سے کام نہ لیا جاوے۔انتھک اور مردانہ وار مرتے دم تک لگا تار لگا ر ہے تو ضرور قبولیت سے کامیابی ہوگی۔لیکن یہ بھی یادر ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی دعاؤں میں کامیاب ہوتارہے تو وہ اپنے آپ کو مستجاب الدعوات دیکھ کر نازاں اور متکبر نہ ہو جائے کیونکہ یہ کوئی خاص قرب کا درجہ اس نے حاصل نہیں کیا اور اس سے مقبول الہی مقرب خدا نہیں بن گیا۔کیونکہ اگر وہ ایک سائلا نہ حیثیت میں ایک سخی اور غنی بادشاہ کے دروازے پر ہر روز بوقت سوال و عرض کے کچھ حاصل کر لیتا ہے اور بھی ۳۸